کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 297
تکلیف دیتا اﷲ کسی کو لیکن اس کی طاقت کے موافق‘‘ لڑکے کا اگر مال ہو تو اس کا ولی اس میں سے صدقہ فطر نکالے اور اگر مال نہ ہو تو اس کی طرف سے اس کا باپ یا جس پر اس کا نفقہ واجب ہو،ادا کرے۔یہی جمہور کا قول ہے: ’’وجوب فطرۃ الصغیر في مالہ،والمخاطب بإخراجھا ولیہ،إن کان للصغیر مال وإلا وجبت علیٰ من تلزمہ نفقتہ،و إلیٰ ھذا ذھب الجمھور‘‘[1] انتھیٰ ما في نیل الأوطار۔ [صغیر کا فطرانہ اس کے مال سے واجب ہے اور ولی اس کو نکالنے کا پابند ہے،بشرطیکہ صغیر کے پاس مال ہو،ورنہ اس پر واجب ہے جس کے ذمے اس کا خرچ واجب ہے،جمہور بھی اسی طرف گئے ہیں ] ’’قولہ:الصغیر والکبیر۔ظاھرہ وجوبھا علیٰ الصغیر،لکن المخاطب عنہ ولیہ،فوجوبھا علیٰ ھذا في مال الصغیر وإلا فعلیٰ من تلزمہ نفقتہ،وھذا قول الجمھور‘‘[2] [قولہ:’’الصغیر والکبیر‘‘ اس کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صغیر پر واجب ہے،لیکن اس کا مخاطب اس کا ولی ہے،اس صورت میں یہ صغیر کے مال میں واجب ہے،ورنہ اس پر،جس پر اس کا خرچ واجب ہے،یہی جمہور کا قول ہے] غلام کا مولیٰ ادا کرے،کیونکہ مسلم کی حدیث میں آیا ہے کہ مولیٰ پر غلام کا صدقہ نہیں،مگر صدقہ فطر،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلام کا صدقہ فطر مولیٰ ادا کرے: ’’قولہ:علی العبد الخ،ظاھرہ إخراج العبد عن نفسہ،ولم یقل بہ إلا داود،وخالفہ أصحابہ والناس،واحتجوا بحدیث أبي ھریرۃ مرفوعاً:لیس في العبد صدقۃ إلا صدقۃ الفطر۔أخرجہ مسلم،ومقتضاہ أنھا علیٰ السید‘‘[3] انتھیٰ ما في فتح الباري ملخصاً بقدر الحاجۃ۔ [’’قولہ:علی العبد۔۔۔الخ اس کا ظاہر مفہوم تو یہ ہے کہ غلام اپنا فطرانہ خود ادا کرے،مگر یہ قول صرف داود کا ہے،جب کہ اس کے اصحاب اور دیگر لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے،انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث سے حجت پکڑی ہے کہ غلام پر صرف صدقہ فطر واجب ہے،اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔اسی کا تقاضا ہے کہ یہ غلام کے آقا کے ذمے ہے] حنفی مذہب میں صدقہ فطر واجب ہے صاحب نصاب پر،یعنی جس کے پاس زکات کا نصاب ہو اور لڑکے کا صدقہ صرف باپ ادا کرے اور دیگر سب باتوں میں موافق اسی کے ہے جو گزرا ہے۔ہدایہ میں ہے: [1] نیل الأوطار (۴/ ۵۶۳) [2] فتح الباري (۳/ ۳۶۹) [3] فتح الباري (۳/ ۳۶۸)