کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 296
ان احادیثِ صحیحہ موعودہ میں سے ایک یہ ہے: ’’عن ابن عمر قال:فرض رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم زکاۃ الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعیر علیٰ العبد والحر والذکر والأنثیٰ والصغیر والکبیر من المسلمین،وأمر بھا أن تؤدیٰ قبل خروج الناس إلی الصلاۃ‘‘[1] یعنی روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرض کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع خرما سے ایک صاع جو سے یا اس سے جو اس کے سوا اور کھانے کی چیزیں ہیں،جن کا بیان ان شاء اﷲ تعالیٰ آئے گا،ہر غلام و آزاد اور مرد اور عورت اور لڑکے اور جوان پر مسلمانوں سے اور حکم کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ادا کیا جائے صدقہ فطر پہلے اس سے کہ لوگ نماز کو نکلیں۔اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔ اس حدیث سے صراحتاً صدقہ فطر کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔حدیث میں فرض کا لفظ موجود ہے اور فرض کے دوسرے معنی مراد لینا بغیر کسی قرینہ صارفہ کے صحیح نہیں،کیونکہ فرض کا یہ معنی حقیقت شرعیہ ہے،کما تقرر فی الأصول،اور اس کے سوا بہت سی حدیثیں ہیں۔ہم نے ایک ہی پر اکتفا کیا ہے،تاکہ طول نہ ہوجائے،چنانچہ بخاری نے صدقہ فطر کے فرض ہونے پر ایک باب منعقد کیا ہے۔مگر اس کی قضا نہیں ہے اور قاعدہ حکمیہ نہیں ہے کہ جو فرضِ عین ہے اس کی قضا لازم ہے،یہ محض بے دلیل ہے،کما تقرر فی الأصول،اور ہر مسلمان پر فرض ہے،جو اس کی استطاعت رکھتا ہو،خواہ مرد ہو خواہ عورت،خواہ لڑکا ہو خواہ جوان،خواہ غلام ہو خواہ آزاد،خواہ امیر ہو خواہ غریب،جیسا کہ حدیث مذکور الصدر سے واضح ہے کہ مطلق ہے۔شرط صاحبِ نصاب ہونے کی نہیں،بلکہ دارقطنی اور احمد کی روایت میں تصریح بھی آگئی ہے کہ فقیر پر بھی فرض ہے: ’’واستدل بقولہ في حدیث ابن عباس:طھرۃ للصائم۔علیٰ أنھا تجب علیٰ الفقیر کما تجب علیٰ الغني،وقد ورد ذلک صریحاً في حدیث أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ عند أحمد،وفي حدیث ثعلبۃ بن أبي صغیر عند الدارقطني‘‘[2] انتھیٰ ما في فتح الباري۔ [ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے دلیل لی گئی ہے کہ صدقہ فطر فقیر پر بھی اسی طرح فرض ہے،جس طرح غنی پر ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو مسند احمد میں ہے اور ثعلبہ بن ابی صغیر کی حدیث میں،جو دارقطنی میں ہے،اس میں صریحاً فقیر پر صدقہ واجب بیان کیا گیا ہے] مگر استطاعت ضروری ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:{لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} [البقرۃ:۲۸۶] ’’نہیں [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۴۳۲) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۹۸۴) [2] فتح الباري (۳/ ۳۶۹)