کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 295
کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ’’فإن اللّٰه تعالیٰ یقول:{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی} ولابن خزیمۃ من طریق کثیر بن عبداللّٰه عن أبیہ عن جدہ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سئل عن ھذہ الآیۃ فقال:نزلت في زکاۃ الفطر‘‘[1] انتھیٰ ما في نیل الأوطار للعلامۃ الشوکاني۔ [فرمانِ باری تعالیٰ:{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی . وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی} ابن خزیمہ نے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ آیت زکاتِ فطر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‘‘] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے اور ابو العالیہ اور ابن سیرین اور اکثر لوگ ان کے سوا بھی یہی کہتے ہیں: ’’قال الإمام البغوي في تفسیر المعالم تحت ھذہ الآیۃ:وقال الآخرون:ھو صدقۃ الفطر،روي عن أبي سعید الخدري في قولہ تعالیٰ {قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی} قال:أعطیٰ صدقۃ الفطر،وقال نافع:کان ابن عمر إذا صلیٰ الغداۃ یعني من یوم العید قال:یا نافع أخرجت الصدقۃ؟ فإن قلت:نعم،مضیٰ إلیٰ المصلی،وإن قلت:لا،قال:فالآن فأخرج فإنما نزلت ھذہ الآیۃ في ھذا:{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی} الآیۃ،وھو قول أبي العالیۃ وابن سیرین‘‘[2] انتھی ملخصاً۔ نیز صحیحین میں یعنی بخاری اور مسلم میں اعرابی کے قصے میں فلاح اس کے لیے ثابت ہوئی ہے جو صرف فرائض ادا کرے اور صدقہ فطر ادا کرنے والے کو بھی {أفلح} یعنی فلاح پائی فرمایا تو معلوم ہوا کہ صدقہ فطر بھی فرض ہے،کما لا یخفی علیٰ الفطین۔ قال الحافظ ابن حجر العسقلاني في فتح الباري شرح البخاري:وقال اللّٰه تعالیٰ:{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی} وثبت أنھا نزلت في زکاۃ الفطر،وثبت في الصحیحین إثبات حقیقۃ الفلاح لمن اقتصر علیٰ الواجبات‘‘[3] انتھیٰ [حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں کہا ہے:فرمانِ خداوندی ہے:{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی} یہ ثابت ہے کہ یہ آیت زکاتِ فطر کے بارے میں نازل ہوئی اور بخاری و مسلم میں یہ ثابت ہے کہ حقیقتِ فلاح کا اثبات اس شخص کے لیے ہے جو واجبات پر اکتفا کرتا ہے] [1] نیل الأوطار (۴/ ۲۵۵) اس حدیث کی سند میں ’’کثیر بن عبداﷲ‘‘ راوی سخت ضعیف ہے۔ [2] معالم التنزیل (۸/ ۴۰۲) [3] فتح الباري (۳/ ۳۶۸)