کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 292
[غالب گمان یہی ہے کہ حضرت عمر،عثمان اور علی رضی اللہ عنہم نے خراجی زمین سے عشر نہیں لیا ہے،اگر انھوں نے وصول کیا ہوتا تو اس کی تفصیل بھی کتابوں میں موجود ہوتی،جیسے خراج کی تفصیل موجود ہے] نیز حدیث (( علیکم بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین )) [1] الحدیث۔[تم میری سنت اور خلفاے راشدین کی سنت پر کاربند رہو] کے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جب خلفاے راشدین میں سے کسی نے عشر زمین خراجیہ سے نہ لیا تو اب بھی وہی حکم ہے،گویا یہ حکم منجملہ اجماعیاتِ صحابہ ہوا،نیز اراضی بلادِ عجم بتصریح علمائے کرام خراجیہ ہیں،چنانچہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتی مالا بد منہ میں اور شاہ عبد العزیز صاحب نے بعض تحریرات میں اس پر صراحت فرمائی ہے۔اور خراجیہ اسے کہتے ہیں جس میں عشر نہ ہو تو ثابت ہوا کہ زمین خراجی میں عشر لازم نہیں۔ ہذا واللّٰه أعلم۔حررہ:محمد عبدالحق ملتانی سید محمد نذیر حسین هو الموافق واضح ہو کہ ہر زمین کی پیداوار میں عشر یا نصف عشر (جیسی صورت ہو) لازم ہے،بشرطیکہ مالک پیداوار مسلمان ہو اور پیداوار نصاب کو پہنچی ہو،خواہ زمین خراجی ہو یا عشری اور خواہ زمین مالک پیداوار کی مملوک ہو یا نہ ہو،ہر حالت میں عشر یا نصف عشر لازم ہے،اس واسطے کہ ادلہ وجوبِ عشر و نصفِ عشر عام ہیں۔ ’’قال اللّٰه تعالیٰ:{اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَ مِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ} [البقرۃ:۲۶۷] وقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( فیما سقت السمآء والعیون أو کان عثریا العشر،وفیما سقي بالنضح نصف العشر )) [2] (متفق علیہ) [اپنی ستھری کمائی اور زمین کی پیداوار میں سے خرچ کرو اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بارش اور قدرتی چشموں سے سیراب شدہ زمین کی پیداوار میں سے دسواں حصہ ہے اور جھٹے وغیرہ کی پیداوار سے بیسواں حصہ ہے] اور کوئی ایسی دلیل صحیح نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ عشر یا نصف صرف زمین عشری میں لازم ہے اور زمین خراجی میں لازم نہیں۔جس قدر دلیلیں اس مطلوب کے ثبوت میں حنفیہ کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں،ان میں سے ایک بھی قابلِ احتجاج نہیں۔ایک دلیل ان کی یہ حدیث ہے:(( لا یجتمع عشر وخراج في أرض مسلم )) [عشر اور خراج مسلمانوں کی زمین میں جمع نہیں ہوتے] یعنی مسلمان کی زمین میں عشر اور خراج جمع نہیں ہوتا۔یہ حدیث بالکل ضعیف و باطل ہے۔حافظ ابن حجر درایہ (صفحہ:۲۶۸) میں لکھتے ہیں: ’’حدیث:لا یجتمع عشر وخراج في أرض مسلم۔ابن عدي عن ابن مسعود رفعہ بلفظ:لا یجتمع علیٰ مسلم خراج و عشر،وفیہ یحییٰ بن عنبسۃ،وھو واہ،وقال [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۶۰۷) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۴۱۲) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۹۸۱)