کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 291
ومالک وأحمد یجمع بینھما لأنھما حقان ذاتا و محلا وسببا ومصرفا‘‘ [امام شافعی،مالک احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ عشر بھی ہوگا اور خراج بھی،کیوں کہ یہ دونوں علاحدہ علاحدہ حق ہیں،ان کا محل،سبب اور مصرف سب الگ الگ ہیں ] صاحبِ ہدایہ نے اپنے مدعا کے اثبات میں تین ادلہ قائم کیے ہیں۔امام ابن ہمام نے تینوں کو مخدوش و منظور فیہ کر دیا ہے،چنانچہ صاحبِ ہدایہ نے استدلال بحدیث ’’لا یجتمع عشر وخراج في أرض مسلم‘‘[1] [مسلمان آدمی کی زمین میں عشر اور اخراج جمع نہیں ہوسکتے] کیا اور امام ابن ہمام نے فرمایا:’’وھو حدیث ضعیف‘‘[2] پھر آگے اس کی وجہ ضعف بیان کی،پھر دو حدیثیں موقوف نقل کیں اور اس پر فرمایا: ’’وحاصل ھذا کما تری لیس إلا نقل مذھب بعض التابعین ولم یرفعوہ لیکون حدیثاً مرسلا‘‘[3] [اس کا حاصل صرف اتنا ہی ہے کہ بعض تابعین کا مذہب ہے اور انھوں نے اس کو مرفوعاً بیان نہیں کیا کہ وہ مرسل ہے] نیز صاحبِ ہدایہ نے استدلال کیا ہے کہ ’’إن أحدا من أئمۃ الجور والعدل لم یجمع بینھما‘‘ [کسی ظالم اور منصف بادشاہ نے عشر اور خراج کو جمع نہیں کیا] اس پر امام ابن ہمام نے فرمایا: ’’قد منع بنقل ابن المنذر الجمع في الأخذ عن عمر بن عبد العزیز فلم یتم،وعدم الأخذ من غیرہ جاز کونہ لتفویض الدفع إلیٰ الملاک فلم یتعین قول الصحابي بعدم الجمع لیحتج بہ من یحتج بقولھم علیٰ أن فعل عمر بن عبد العزیز یقتضي أن لیس عمر بن الخطاب رضی اللّٰه عنہ علیٰ منع الجمع،لأنہ کان متبعا لہ مقتنیا لآثارہ‘‘[4] [اس کا جواب یہ ہے کہ ابن منذر نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے عشر اور خراج دونوں کا وصول کرنا بیان کیا ہے تو اب یہ بات نہ رہی کہ کسی صحابی سے اس کا جمع کرنا منقول نہیں ہے،کیوں کہ عمر بن عبدالعزیز حضرت عمر فاروق کے آثار کی پیروی کیا کرتے تھے،اگر انھوں نے ان کو جمع نہ کیا ہوتا تو یہ بھی جمع نہ کیا کرتے] لیکن امام ابن ہمام نے ایک دلیل عدمِ وجوب کی نقل کی ہے۔فرماتے ہیں: ’’الذي یغلب علیٰ الظن أن الخلفاء الراشدین من عمر و عثمان وعلي رضی اللّٰه عنہم لم یأخذوا عشرا من أرض الخراج وإلا لنقل کما نقل تفاصیل أخذھم الخراج‘‘[5] [1] دیکھیں:نصب الرایۃ (۳/ ۴۴۲) [2] فتح القدیر (۶/ ۳۹) نیز دیکھیں:المجموع للنووي (۵/ ۵۵۰) [3] فتح القدیر (۶/ ۳۹) [4] فتح القدیر (۶/ ۴۲) [5] فتح القدیر (۶/ ۴۲)