کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 289
اعتبار کرنے میں مخالفت کی ہے] اور ظاہر انھیں لوگوں کا قول ہے،جو کہتے ہیں کہ صورتِ مسئولہ میں زکات فرض نہیں،کیونکہ چاندی اور سونا دونوں ملا کر نصاب پورا کرنا اور زکات کو فرض بتانا محتاجِ دلیل ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کیا عورت اپنی اولاد کے مال سے بغیر اجازت صدقہ کر سکتی ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک عورت اپنی اولاد کے مال سے بلا اجازت اولاد کے صدقہ و خیرات کرنا چاہتی ہے۔پس کیا وہ عورت بلا اجازت اولاد کے صدقہ و خیرات کر سکتی ہے اور حدیث (( أنت ومالک لأبیک )) کا کیا مطلب ہے؟ مرسلہ:مولوی عبداﷲ از ضلع فیروز پور جواب:حدیث (( أنت ومالک لأبیک )) کا یہ مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ باپ کو اختیار ہے کہ حاجت کے وقت اپنی اولاد کے مال سے بلا اجازت اولاد کے لے لے۔اس حدیث کے پورے الفاظ یہ ہیں: إن رجلا أتی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال:یا رسول اللّٰه إن لي مالا وولدا،وإن والدي یجتاح مالي،قال (( أنت ومالک لوالدک،إن أولادکم من أطیب کسبکم فکلوا من کسب أولادکم )) [2] [ایک شخص نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی:اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس مال و اولاد ہے اور میرا باپ میرا سارا مال لے لیتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے،تمھاری اولاد تمھاری بہترین کمائی میں سے ہے،لہٰذا اپنی اولاد کی کمائی سے کھا لیا کرو۔‘‘] ’’مجمع البحار‘‘ میں ہے: ’’إن أبي یرید أن یجتاح مالي أي یستأصلہ،ویأتي علیہ أخذا و إنفاقا،قال الخطابي:لعل قدر ما یحتاج إلیہ والدہ شيء کثیر،لا یسعہ مالہ إلا أن یجتاح أصلہ فلم یرخص لہ في ترک النفقۃ علیہ،وقال:أنت ومالک لأبیک علیٰ معنی أنہ إذا احتاج إلیہ أخذ منہ قدر حاجتہ،وإن لم یکن لک مال لزمک أن تکتسب وتنفق علیہ،ولا یرید إباحۃ مالہ لہ حتی اجتاحہ إسرافا فلا أعلم أحداً ذھب إلیہ‘‘ انتھیٰ [میرا باپ میرا سارا مال لینا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ سارا ہی لے کر خرچ کر ڈالے۔امام خطابی نے [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۹۲) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۵۳۰) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۲۹۲)