کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 288
دینی ضرورت ہے اور شدید ضرورت ہے تو اس میں بھی علاوہ زکات کے تھوڑا تھوڑا بقدرِ حیثیت ان کو خرچ کرنا چاہیے اور اس میں بھی ان کو معذور نہیں بننا چاہیے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین نصابِ زکات اور روپے و سونے کو ملا کر زکات ادا کرنا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ تیس روپے زید کے پاس حاجت ضروری سے فاضل ہیں اور سونا بھی تیس روپے کا ہے یا فقط سونا تیس روپے کا اور چاندی بھی اسی قدر ہے۔آیا اس وقت پر زید کو زکات فرض ہے یا نہیں ؟ جواب:جب کسی کے پاس سونا اور چاندی بقدر نصاب کے ہو اور اس پر کامل ایک برس گزر چکا ہے،تب زکات فرض ہوتی ہے۔چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے اور سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے سونا ہے،پس صورتِ مسئولہ میں سونا اور چاندی دونوں کو ملا کر نصاب پورا ہوجائے اور ایک سال اس پر گزر چکا ہو تو زید پر زکات فرض ہے،ورنہ فرض نہیں ہے۔چاندی اور سونا دونوں کو ملا کر نصاب پورا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ سونے کو چاندی کی قیمت لگا کر کل کو چاندی بنا لیں یا چاندی کو سونے کی قیمت لگا کر کل کو سونا بنا لیں۔واللّٰه أعلم۔ حررہ:السید أبو الحسن،عفی عنہ۔ سید محمد ابو الحسن سید محمد نذیر حسین هو الموافق جواب ہذا کے متعلق یہ معلوم کرنا چاہیے کہ صورتِ مسئولہ میں چاندی اور سونا دونوں کو ملا کر نصاب پورا کرنا اور اس میں زکات کا فرض ہونا اتفاقی مسئلہ نہیں ہے،بلکہ مختلف فیہ ہے۔بعض علما کے نزدیک فرض ہے اور بعض کے نزدیک فرض نہیں ہے۔حافظ ابن حجر فتح الباری (۳/ ۳۴۹) میں لکھتے ہیں: ’’واستدل بہ (أي بقولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم:لا یجمع بین متفرق) علیٰ أن من کان عندہ دون النصاب من الفضۃ ودون النصاب من الذھب مثلاً أنہ لا یجب ضم بعضہ إلی بعض حتی یصیر نصاباً کاملاً فتجب فیہ الزکاۃ خلافا لمن قال:یضم علیٰ الأجزاء کالمالکیۃ أو علیٰ القیم کالحنفیۃ‘‘ انتھیٰ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے (کہ متفرق کو جمع نہ کیا جائے) استدلال کیا گیا ہے کہ جس کے پاس چاندی بھی نصاب سے کم ہو اور سونا بھی نصاب سے کم ہو تو ان کو ملا کر نصاب پورا نہیں کیا جائے گا کہ اس میں زکات فرض ہو جائے اور اس میں بعض مالکیہ نے اجزا کے ملانے میں اور بعض حنفیہ نے قیمت کا [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۸۹)