کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 284
بأن الھاشمي یجوز لہ أن یدفع زکاتہ إلیٰ مثلہ،لأن ظاھر الروایۃ إطلاق المنع‘‘[1] انتھیٰ [بنی ہاشم کے متعلق حکم عام ہے،کسی زمانے اور شخص کی تخصیص نہیں ہے۔اس میں ابو عصمہ کی ابو حنیفہ سے روایت کہ بنی ہاشم کو اس زمانے میں زکات دینا جائز ہے یا یہ قول کہ ہاشمی ہاشمی سے زکات لے سکتا ہے کی تردید مقصود ہے،کیوں کہ ظاہر روایت میں مطلقاً منع ہے] الحاصل بنی ہاشم کو زکات لینا جائز نہیں ہے،کسی حدیث سے اس کا جواب ثابت نہیں،یہی مذہب ہے امام شافعی اور امام مالک اور امام احمد اور تمام ائمہ دین کا۔عند الحنفیہ بھی یہی مفتی بہ اور ظاہر المذہب و ظاہر الروایت ہے۔ہاں زکوۃ کے سوا نفلی صدقات کی نسبت علما کا اختلاف ہے۔بعض اہلِ علم کے نزدیک نفلی صدقات بھی بنی ہاشم پر حرام ہیں۔اکثر حنفیہ کے نزدیک جائز ہے اور حنابلہ اور شافعیہ کے نزدیک بھی علی القول الصحیح جائز ہے۔’’سبل السلام‘‘ میں ہے: ’’وقد ذھب طائفۃ إلیٰ تحریم صدقۃ النفل أیضاً علیٰ الآل،واخترناہ في حواشي ضوء النھار لعموم الأدلۃ‘‘[2] [اہلِ بیت پر نفلی صدقہ کی حرمت کی بھی ایک جماعت قائل ہے اور ہمیں یہی پسند ہے،کیوں کہ دلائل میں عموم ہے] نیز ’’نیل الاوطار‘‘ میں ہے: ’’وأما آل النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال أکثر الحنفیۃ،وھو المصحح عن الشافعیۃ والحنابلۃ:إنھا تجوز لھم صدقۃ التطوع دون الفرض،قالوا:لأن المحرم علیھم إنما ھو أوساخ الناس،وذلک ھو الزکاۃ المفروضۃ لا صدقۃ التطوع،وقال في البحر:إنہ خصص صدقۃ التطوع بالقیاس علیٰ الھبۃ والھدیۃ والوقف،وقال أبو یوسف وأبو العباس:إنھا تحرم علیھم کصدقۃ الفرض،لأن الدلیل لم یفصل‘‘[3] انتھیٰ [آلِ نبی پر نفلی صدقے کے جواز کی ایک جماعت احناف،شوافع اور حنابلہ میں سے قائل ہے اور فرض میں نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ حرام جو ہے وہ لوگوں کی میل کچیل ہے اور وہ فرضی زکات ہے نہ کہ نفلی صدقہ۔بحر میں کہا ہے کہ نفلی صدقہ کو ہبہ،ہدیہ اور وقف پر قیاس کیا گیا ہے۔امام ابو یوسف اور ابو العباس نے کہا:نفل صدقہ بھی ان پر فرضی زکات کی طرح حرام ہے،کیوں کہ دلیل میں نفلی اور فرضی کا امتیاز نہیں کیا گیا] فتح الباری میں ہے: [1] البحر الرائق (۲/ ۲۶۶) [2] سبل السلام (۲/ ۱۴۷) [3] نیل الأوطار (۴/ ۲۴۰)