کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 282
ہے کہ ثواب نہیں ہوگا۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن،عفا اللّٰه عنہ۔ کیا ساداتِ کرام زکات لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ سوال:در باب جواز اخذ زکات و صدقات اہلِ بیت را اگر حدیثے درین باب آمدہ باشد عنایت فرمایند۔ [سادات کرام زکات لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر اس طرح کی کوئی حدیث ہو تو بیان فرمائیں ] جواب:واضح باد کہ در باب جواز اخذ زکات اہلِ بیت کذا فی حدیث صحیح یا ضعیف نیامدہ،بلکہ از احادیث صحیحہ و اقوال محدثین ممانعت معلوم می شود۔آرے فقہاے حنفیہ در جواز اخذ زکات اہلِ بیت را درین زمان روا د اشتہ اند و گفتہ اند کہ دران زمان بوجہ مقرر شدن از خمس حاجت اخذ زکات نہ بود و بر اہلِ بیت زکات حرام بود و درین زمان کہ خمس کجا است اگر گیرند روا ابا شد واین قول صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ است و دیگر ائمہ ثلاثۃ حرام می گویند چنانکہ از احادیث ثابت می شود،واللّٰه أعلم بالصواب۔ [اس طرح کی کوئی صحیح یا ضعیف حدیث نہیں ہے،جس سے اہلِ بیت کو زکات لینا جائز ثابت ہو،بلکہ صحیح احادیث اور اقوالِ محدثین سے اس کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ہاں فقہائے حنفیہ نے اس زمانے میں سادات کو زکات لینا جائز قرار دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں سادات کو خمس میں سے حصہ مل جاتا تھا،لہٰذا زکات لینا ان کو منع تھا اور اس زمانے میں نہ بیت المال ہے نہ خمس،لہٰذا اس دور میں وہ زکات لے سکتے ہیں۔یہ قول صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے،باقی تینوں امام اس کو حرام بتاتے ہیں۔واﷲ أعلم] حررہ:السید عبدالحفیظ،عفي عنہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق فی الواقع کوئی حدیث صحیح یا ضعیف ایسی نہیں آئی ہے جس سے اہلِ بیت کے لیے اخذِ زکات کا جواز ثابت ہو،بلکہ احادیث سے صاف صاف یہی ثابت ہے کہ اہلِ بیت پر زکات حرام ہے۔علامہ ابو طالب،ابن قدامہ اور ابن ارسلان نے اس حرمت پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے،یعنی یہ کہا ہے کہ تمام علما کے نزدیک بالاتفاق اہلِ بیت پر زکات حرام ہے۔سبل السلام میں ہے: ’’وکذا أدعی الإجماع علی حرمتھا علی آلہ أبو طالب و ابن قدامۃ‘‘[1] [ابو طالب اور ابن قدامہ اور ابن ارسلان نے دعوی کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر زکات کے حرام ہونے پر امت کا اجماع ہے] اور نیل الاوطار میں ہے: ٍ [1] سبل السلام (۲/ ۱۴۷)