کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 281
کا عطیہ دیا تھا،اگر تو ان کھجوروں کو چنے اور ان کی مالک بنے تو وہ تیری ہیں،آج وہ وراثت کا مال ہے اور وہ (وارث) تیرے دو بھائی (عبد الرحمان اور محمد) اور دو بہنیں ہیں۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اے ابا جان! اگر وہ مال بہت زیادہ بھی ہوتا تو میں اس کو چھوڑ دیتی،ایک میری بہن تو اسما ہے،دوسری کون ہے؟ انھوں نے کہا:حبیبہ بنت خارجہ کے پیٹ میں جو ہے،میرا گمان ہے کہ وہ بیٹی ہے] مالک عن ابن شہاب عن عروۃ بن الزبیر عن عبد الرحمن بن عبد القاري أن عمر بن الخطاب قال:ما بال رجال ینحلون أبناء ھم نحلا،ثم یمسکونھا،فإن مات ابن أحدھم قال:مالي بیدي،لم أعطہ أحداً،وإن مات ھو قال:ہو لابني،قد کنت أعطیتہ إیاہ،من نحل نحلۃ فلم یحزھا الذي نحلھا حتی یکون ان مات لورثتہ فھي باطل‘‘[1] [مالک،ابن شہاب سے وہ عروہ بن زبیر سے وہ عبد الرحمان بن عبدالقاری سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو عطیے دیتے ہیں،پھر ان کو روک لیتے ہیں،پھر اگر ان میں سے کسی کا بیٹا فوت ہو جائے تو وہ کہتا ہے:میرا مال میرے ہاتھ میں ہے،میں نے وہ کسی کو نہیں دیا اور اگر وہ خود فوت ہو جائے تو کہتا ہے:وہ میرے بیٹے کا ہے،میں نے اس کو عطیہ دیا تھا۔جس کو کوئی عطیہ دیا گیا تو وہ،جس کو یہ عطیہ دیا گیا اس کو قبضے میں لینے سے پہلے فوت ہو گیا تو وہ (عطیہ) باطل ہو گا] ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري جائز و ناجائز آمدنی کا مشترکہ مال خیرات دینے میں ثواب ہے یا نہیں ؟ سوال:جائز و ناجائز آمدنی کا مشترکہ مال خیرات دینے میں ثواب ہے یا نہیں ؟ جواب:صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے:(( إن اللّٰه طیب لا یقبل إلا الطیب )) [2] یعنی اﷲ تعالیٰ طیب ہے وہ قبول نہیں کرتا ہے مگر مال حلال کو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ناجائز آمدنی کے مال سے خیرات دینے میں کچھ ثواب نہیں اور ایک حدیث میں آیا ہے:(( لا یکسب عبد مال حرام فیتصدق منہ فیقبل منہ )) [3] [یعنی جو شخص مالِ حرام سے صدقہ و خیرات کرے گا،وہ مقبول نہیں ہوگا] رہی یہ بات کہ جائز و ناجائز آمدنی کے مشترکہ مال سے صدقہ و خیرات دینے میں ثواب ہوگا یا نہیں ؟ سو ظاہر [1] موطأ الإمام مالک (۲/ ۷۵۲،۷۵۳) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۰۱۵) [3] مسند أحمد (۱/ ۳۸۷) شرح السنۃ (۸/ ۱۰) اس کی سند میں ’’’الصباح بن محمد‘‘ ضعیف ہے۔