کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 278
سے بھی،اس واسطے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:اپنے مُردوں پر سورت یٰسین پڑھو،نیز دعا کا نفع بھی میت کو پہنچتا ہے،اولاد دعا کرے یا کوئی اور،اور جو کارِ خیر اولاد اپنے والدین کے لیے کرے سب کا ثواب والدین کو پہنچتا ہے،اس واسطے کہ حدیث میں آیا ہے کہ انسان کی اولاد اس کی سعی سے ہے۔ جب علامہ شوکانی اور محمد بن اسماعیل امیر کی تحقیق ایصالِ ثواب قراء تِ قرآن و عباداتِ بدنیہ کے متعلق سن چکے تو اب آخر میں علامہ ابن النحوی کی تحقیق بھی سن لینا خالی از فائدہ نہیں۔آپ شرح المنہاج میں فرماتے ہیں: ’’لا یصل إلیٰ المیت عندنا ثواب القراء ۃ علیٰ المشھور،والمختار الوصول،إذا سأل اللّٰه إیصال ثواب قراء۔تہ،وینبغي الجزم بہ،لأنہ دعاء فإذا جاز الدعاء للمیت بما لیس للداعي فلأن یجوز بما ھو لہ أولیٰ،ویبقی الأمر فیہ موقوفاً علیٰ استجابۃ الدعا،وھذا المعنی لا یختص بالقراء۔ۃ،بل یجري علیٰ سائر الأعمال،والظاہر أن الدعاء متفق علیہ،أنہ ینفع المیت والحي القریب والبعید بوصیۃ وغیرھا،وعلیٰ ذلک أحادیث کثیرۃ،بل کان أفضل أن یدعو لأخیہ بظھر الغیب‘‘ انتھیٰ،ذکرہ في نیل الأوطار۔[1] یعنی ہمارے نزدیک مشہور قول پر قراء تِ قرآن کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا،لیکن مختار یہ ہے کہ پہنچتا ہے،جبکہ اﷲ تعالیٰ سے قراء تِ قرآن کے ثواب پہنچنے کا سوال کرے (یعنی قرآن پڑھ کر دعا کرے اور یہ سوال کرے کہ یا اﷲ اس قراء ت کا ثواب فلاں میت کو تو پہنچا دے) اور دعا کے قبول ہونے پر امر موقوف رہے گا (یعنی اگر دعا اس کی قبول ہوئی تو قراء ت کا ثواب میت کو پہنچے گا اور اگر دعا قبول نہ ہوئی تو نہیں پہنچے گا) اور اس طرح پر قراء ت کے ثواب پہنچنے کا جزم کرنا لائق ہے،اس واسطے کہ یہ دعا ہے،پس جبکہ میت کے لیے ایسی چیز کی دعا کرنا جائز ہے،جو داعی کے اختیار میں نہیں ہے تو اس کے لیے ایسی چیز کی دعا کرنا بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا،جو داعی کے اختیار میں ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ دعا کا نفع میت کو بالاتفاق پہنچتا ہے اور زندہ کو بھی پہنچتا ہے،نزدیک ہو خواہ دور ہو اور اس بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں،بلکہ افضل یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرے۔واﷲ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔عفا اللّٰه عنہ۔[2] کیا ایصالِ ثواب کے لیے فقرا و مساکین کو کھانا کھلانا درست ہے؟ سوال:بغرضِ ثواب رسانی بحق موتیٰ فقیروں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا درست ہے یا نہیں ؟ [1] نیل الأوطار (۴/۴۸۵) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۷۱۸)