کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 276
یعنی یہ زیارتِ قبر کی دعائیں اور مثل ان کے اور دعائیں میت کو نافع ہیں بلا اختلاف رہا۔میت کے لیے قرآن پڑھنا سو امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا امام احمد رحمہ اللہ اور علما کی ایک جماعت کا یہ مذہب ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔علمائے اہل سنت سے ایک جماعت اور حنفیہ کا یہ مذہب ہے کہ انسان کو جائز ہے کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو بخشے خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا حج یا قراء تِ قرآن یا کوئی ذکر یا کسی قسم کی کوئی اور عبادت،اور یہی قول دلیل کی رو سے زیادہ راجح ہے۔دار قطنی نے روایت کیا ہے کہ ایک مرد نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ان کے مرنے کے بعد کیوں کر نیکی و احسان کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ اپنی نماز کے ساتھ ان دونوں کے لیے نماز پڑھے اور اپنے روزے کے ساتھ ان دونوں کے لیے روزہ رکھے۔[1] ابو داود میں معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے مردوں پر سورۂ یٰسین پڑھو۔یہ حکم میت کو بھی شامل ہے،بلکہ حقیقتاً میت ہی کے لیے ہے۔صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بھیڑ اپنی طرف سے قربانی کرتے تھے اور ایک اپنی امت کی طرف سے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کو غیر کا عمل نفع دیتا ہے۔ہم نے حواشی ضوء النہار میں اس مسئلے پر مبسوط کلام کیا ہے،جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہی مذہب قوی ہے۔ ’’نیل الاوطار‘‘ (۳/ ۳۳۵) میں ہے: ’’والحق أنہ یخصص عموم الآیۃ بالصدقۃ من الولد کما في أحادیث الباب،بالحج من الولد،کما في خبر الخثعمیۃ،ومن غیر الولد أیضاً کما في حدیث المحرم عن أخیہ شبرمۃ،ولم یستفصلہ صلی اللّٰه علیہ وسلم ھل أوصیٰ شبرمۃ أم لا،و بالعتق من الولد،کما وقع في البخاري في حدیث سعد،خلافا للمالکیۃ علیٰ المشھور عندھم،وبالصلاۃ من الولد أیضاً،لما روی الدارقطني،أن رجلا قال:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ! أنہ کان لي أبوان أبرھما في حال حیاتھما،فکیف لي ببرھما بعد موتھما؟ فقال صلی اللّٰه علیہ وسلم:إن من البر بعد البر أن تصلي لھما مع صلاتک،وأن تصوم لھما مع صیامک۔وبالصیام من الولد لھذا الحدیث،ولحدیث ابن عباس عند البخاري ومسلم:إن امرأۃ قالت:یا رسول اللّٰه! إن أمي ماتت،وعلیھا صوم نذر،فقال:أرأیت لو کان دین علیٰ أمک فقضیتہ أکان یؤدی [1] دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۵۹۷)