کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 275
’’وذھب أحمد بن حنبل وجماعۃ من العلماء وجماعۃ من أصحاب الشافعي إلیٰ أنہ یصل‘‘[1] واللّٰه أعلم بالصواب۔ حررہ:علي محمد،عفي عنہ [امام احمد بن حنبل،علما کی ایک جماعت اور اصحابِ شافعی رحمہ اللہ کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اس (قراء تِ قرآن) کا ثواب (میت کو) پہنچتا ہے] سید محمد نذیر حسین هو الموافق متاخرین علمائے اہلِ حدیث سے علامہ محمد بن اسماعیل امیر رحمہ اللہ نے سبل السلام میں مسلکِ حنفیہ کو ارجح دلیلاً بتایا ہے،یعنی یہ کہا ہے کہ قراء تِ قرآن اور تمام عباداتِ بدنیہ کا ثواب میت کو پہنچنا از روئے دلیل کے زیادہ قوی ہے۔علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے بھی ’’نیل الأوطار‘‘ میں اسی کو حق کہا ہے،مگر اولاد کے ساتھ خاص کیا ہے،یعنی یہ کہا ہے کہ اولاد اپنے والدین کے لیے قراء تِ قرآن یا جس عبادت بدنی کا ثواب پہنچانا چاہے تو جائز ہے،کیونکہ اولاد کا تمام عملِ خیر مالی ہو،خواہ بدنی،اور بدنی میں قراء تِ قرآن ہو یا نماز یا روزہ یا کچھ اور،سب والدین کو پہنچتا ہے،ان دونوں علما کی عبارتوں کو مع ترجمہ یہاں نقل کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ’’سبل السلام شرح بلوغ المرام‘‘ (۱/ ۲۰۶) میں ہے: ’’إن ھذہ الأدعیۃ ونحوھا نافعۃ للمیت بلا خلاف،وأما غیرھا من قراء ۃ القرآن لہ فالشافعي یقول:لا یصل ذلک إلیہ،وذھب أحمد وجماعۃ من العلماء إلیٰ وصول ذلک إلیہ،وذھب جماعۃ من أھل السنۃ والحنفیۃ إلی أن للإنسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ کان أو صوماً أو حجاً أو صدقۃ أو قراء ۃ قرآن أو ذکرا أو أي نوع من أنواع القرب،وھذا ھو القول الأرجح دلیلا،وقد أخرج الدارقطني أن رجلا سأل النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ کیف یبر أبویہ بعد موتھما؟ فأٔجابہ بأنہ یصلي لھما مع صلاتہ ویصوم لھما مع صیامہ،وأخرج أبو داود من حدیث معقل بن یسار عنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم:اقرأوا علی موتاکم سورۃ یٰس،وھو شامل للمیت،بل ھو الحقیقۃ فیہ،وأخرج الشیخان أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم کان یضحي عن نفسہ بکبش وعن أمتہ بکبش،وفیہ إشارۃ إلی أن الإنسان ینفعہ عمل غیرہ،وقد بسطنا الکلام في حواشي ضوء النھار بما یتضح منہ قوۃ ھذا المذھب‘‘[2] انتھیٰ [1] الأذکار للنووي (ص:۲۲۸) [2] سبل السلام (۶/۱۱۹)