کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 273
’’عن جریر بن عبداللّٰه البجلي قال:کنا نعد الاجتماع إلی أھل المیت وصنعۃ الطعام بعد دفنہ من النیاحۃ‘‘[1] [ہم لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم)میت والوں کے جمع ہونے کو اور (جمع ہونے والوں کے لیے) کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتے تھے] ’’نیل الأوطار‘‘ (۳/ ۳۴۰) میں ہے: ’’حدیث جریر أخرجہ أیضاً ابن ماجہ و إسنادہ صحیح ‘‘ [جریر کی حدیث کو ابن ماجہ نے بھی بیان کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے] نیز اس میں ہے: ’’یعني أنھم کانوا یعدون الاجتماع عند أھل المیت بعد دفنہ وأکل الطعام عندھم نوعا من النیاحۃ،لما في ذلک من التثقیل علیھم وشغلتھم مع ما ھم فیہ من شغلۃ الخاطر بموت المیت،وما فیہ من مخالفۃ السنۃ،لأنھم مأمورون بأن یصنعوا لأھل المیت طعاماً فخالفوا ذلک،وکلفوھم صنعۃ الطعام لغیرھم‘‘[2] انتھیٰ [یعنی میت کی تدفین کے بعد اس کے گھر والوں کے ہاں جمع ہونا اور ان کے ہاں کھانا کھانے کو ہم نوحے کی ایک قسم شمار کرتے تھے،کیوں کہ اس میں ان پر بوجھ ہے اور میت کی وفات پر ان کے دل کے پریشان ہونے کے ساتھ ان کو ایک اور پریشانی میں مبتلا کرنا ہے،نیز اس میں سنت کی خلاف ورزی ہے،کیوں کہ وہ تو خود اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اہلِ میت کے لیے کھانا بنائیں،مگر انھوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ان کو دوسروں کے لیے کھانا بنانے کی کلفت میں مبتلا کر دیا] ایسے طعام کے کھانے کھلانے کی حرمت و ممانعت کتبِ فقہ حنفی میں بھی مصرح ہے۔فتح القدیر وغیرہ میں ہے: ’’اتخاذ الطعام من أھل المیت بدعۃ مستقبحۃ،لأنہ شرع في السرور لا في الشرور‘‘[3] انتھیٰ [اہلِ میت سے کھانا کھانا قبیح قسم کی بدعت ہے،کیوں کہ اس قسم کا کھانا تو خوشی کے مواقع پر کھایا جاتا ہے نہ کہ غموں کے وقت] دعا کا نفع موتیٰ کو باتفاق علمائے سلف و خلف رحمہم اللہ پہنچتا ہے۔عباداتِ مالیہ کا بھی ثواب موتیٰ کو بالاتفاق پہنچتا [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۶۱۲) مسند أحمد (۲/ ۲۰۴) [2] نیل الأوطار (۴/ ۱۴۸) [3] فتح القدیر (۲/ ۱۴۲)