کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 271
أحد إلا علیٰ الغال،وقاتل نفسہ‘‘[1] انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ تعالیٰ أعلم۔ [اس سے گناہ گاروں پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیانت کرنے والے اور مقروض کا جنازہ نہ پڑھنا توبیحاً و تنبیہاً ہے،کیوں کہ اگر ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بھی منع کر دیتے۔اہلِ بیت،عمر بن عبدالعزیز اور امام اوزاعی فاسق کا جنازہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں۔امام شافعی ڈاکو کے جنازے کے منکر ہیں اور امام مالک و ابو حنیفہ اور ان کے ساتھی اور جمہور علما فاسق کے جنازے کے قائل ہیں۔ہاں امام ابوحنیفہ ڈاکو اور باغی کے جنازے کے منکر ہیں،اگر بالفرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام بھی مقروض اور خائن کا جنازہ نہ پڑھتے تو بھی اس سے فاسق کے جنازے کی حرمت ثابت نہ ہوتی،کیوں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:جو آدمی لا الٰہ الا اﷲ کہے،اس کا جنازہ پڑھو۔امام احمد کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں کہ انھوں نے خائن اور خود کشی کرنے والے کے سوا کسی اور کا جنازہ نہ پڑھا ہو] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] وفات کے بعد سوم اور چہلم کی رسم کی شرعی حیثیت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ جو طعام بوقت ہو جانے موت کسی آدمی کے بنام نہاد حاضری سوم و چہلم وغیرہ حسبِ رواج ہر قوم پکوا کر خواہ بطریقِ دعوت خواہ بطریق بھاجی گھر بہ گھر تقسیم ہوتا ہے اور قدرے غربا باقی تمام اہلِ برادری کو کھلایا جاتا ہے اور اس میں اکثر مالدار ہوتے ہیں۔یہ کھانا وارثانِ میت حسبِ رواج اپنی قوم کے اکراہاً و بلا اکراہ کرتے ہیں اور بعض اوقات بخوف طعنہ زنی قرض دام کر کے خواہ مال فروخت کر کے پکواتے ہیں،بلکہ بعض اوقات یتیم کے مال کا بھی خیال نہیں کرتے۔ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ اس کا کھانا کیسا ہے اور ازروئے شریعتِ اسلامی اور زمانہ سلف سے ثواب رسانی موتیٰ کو کس طریق سے ثابت ہے اور کیونکر کرنا چاہیے اور ایسا کرنے والا جو اوپر طریق مروج ہے،مسرف کہلائے گا یا نہیں ؟ جواب:جو طعام حاضری کا یا سوم یا چہلم میت کا ہے،اس میں رواج کسی قوم کا معتبر نہیں،کیونکہ کوئی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا فقہی روایت اس باب میں نہیں پائی جاتی۔بس یہ بالکل بے اصل ہے اور اس کو ضروری اور لازم جاننا بدعت ہے۔یہ دعوت بھی نادرست ہے،کیونکہ دعوت شادی اور خوشی میں مشروع ہے نہ کہ غمی میں،اور رسم بھاجی کی غمی اور شادی دونوں میں بدعت ہے،کیونکہ اس میں تباہی ہے،یعنی آپس میں فخر اور ریا و نمود کرنا ہے اور ایسے طعام [1] منتقی الأخبار مع شرحہ نیل الأوطار (۴/ ۸۵) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۷۹)