کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 267
فتصلي وتبکي عندہ،قلت:وھو حدیث مرسل،کان علي بن الحسین لم یدرک فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم،وعموم ما أخرجہ البیھقي في شعب الإیمان مرسلاً:من زار قبر الوالدین أو أحدھما في کل جمعۃ غفرلہ وکتب بارا،انتھیٰ‘‘ واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے،یہ رخصت سے پہلے تھی،جب رخصت ہوئی تو عورتوں مردوں کو ہوگئی اور عورتوں کے لیے جو زیارت مکروہ ہے،وہ صرف بے قراری اور بے صبری کی وجہ سے ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی جب اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر کی زیارت کی تو دردناک شعر پڑھے اور حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:جب میں قبرستان میں جاؤں تو کیا کہا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھلائی،ان کو منع نہ کیا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر ہر جمعہ کو جایا کرتی تھیں اور حدیث میں ہے،جو ہر جمعہ اپنے والدین کی قبر پر جائے،اس کو بخش دیا جائے گا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے والا لکھا جائے گا] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کیا بے نماز کے گھر کھانا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک شخص نہایت بدکار اور بے نماز ہے۔کبھی نماز پڑھتا ہے یا بالکل نہیں پڑھتا۔ایسے شخص کے گھر کا کھانا اور اس شخص کے جنازے کی نماز پڑھنی اور تجہیز و تکفین کرنی چاہیے یا نہیں ؟ جواب:بدکار و بے نماز کے گھر کا کھانا متقی و پرہیزگار لوگوں کو نہ کھانا چاہیے اور اس کے جنازہ کی نماز بھی جو عالم و مقتدا ہو،وہ نہ پڑھے،بلکہ کسی معمولی شخص سے پڑھوا دے،تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔واﷲ أعلم بالصواب،حررہ:السید محمد أبو الحسن۔ سید محمد ابو الحسن سید محمد نذیر حسین سید محمد عبدالسلام هو الموافق فاسق اور بدکار کے یہاں کھانا کھانے اور ان کی دعوت قبول کرنے کی ممانعت عمران بن حصین کی اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے: ’’نھیٰ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن إجابۃ طعام الفاسقین‘‘° أخرجہ الطبراني في الأوسط۔ یعنی منع کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسقین کے کھانے کی دعوت قبول کرنے سے۔روایت کیا اس حدیث کو طبرانی نے اوسط میں۔ [1] المعجم الأوسط (۱/ ۱۴۰) شعب الإیمان (۲/ ۱۸۰) اس کی سند میں ’’ابو مروان واسطی‘‘ ضعیف ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۵۲۲۹)