کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 266
منھن من الصیاح ونحو ذلک،فقد یقال:إذا أمن من جمیع ذلک فلا مانع من الإذن لأن تذکر الموت یحتاج إلیہ الرجال والنساء‘‘[1] انتھیٰ [قبروں کی زیارت کے لیے عورتوں کے جانے میں اختلاف ہے۔اکثر کا یہ مذہب ہے کہ جب قبور کی زیارت کی اجازت ہوئی تو اس میں عورتوں کو بھی اجازت مل گئی،بشرطیکہ زیادہ نہ جائیں اور وہاں جاکر بے صبری نہ کریں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو قبر کے پاس بیٹھے دیکھا تو اس کو منع نہ کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی عبدالرحمان کی قبر پر زیارت کے لیے گئیں،کسی نے کہا:رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قبرستان میں جانے سے روکا ہے،کہنے لگیں:جب روکا تھا تو سب کو روکا تھا اور جب اجازت ہوئی تو عورتوں کو بھی ہوگئی۔ابو اسحاق نے مہذب میں کہا ہے کہ اجازت صرف مردوں کو ہوئی ہے،عورتوں کو نہیں۔مانعین عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے اور (( لعن اللّٰه زوارات القبور )) سے استدلال کرتے ہیں،پھر مکروہ کہنے والوں میں سے بعض مکروہ تنزیہی کہتے ہیں اور بعض مکروہ تحریمی۔قرطبی کہتے ہیں کہ اگر عورت قبرستان میں زیادہ نہ جائے،نوحہ نہ کرے،مرد کے حقوق ضائع نہ کرے تو اس کو جانا جائز ہے،ورنہ نہیں ] بلوغ المرام اور اس کی شرح سبل السلام میں ہے: ’’وعن أبي ھریرۃ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لعن زائرات القبور۔أخرجہ الترمذي،وصححہ ابن حبان،وقال الترمذي بعد إخراجہ:ھذا حدیث حسن،وفي الباب عن ابن عباس وحسان،وقد قال بعض أھل العلم:إن ھذا کان قبل أن یرخص النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم في زیارۃ القبور،فلما رخص دخل في الرخصۃ الرجال والنساء،وقال بعضھم:إنما کرہ زیارۃ القبور للنساء لقلۃ صبرھن وکثرۃ جزعھن۔ثم ساق بسندہ أن عبد الرحمن بن أبي بکر توفي و دفن في مکۃ،وأتت عائشۃ قبرہ،ثم قالت شعرا: وکنا کندماني جذیمۃ حقبۃ من الدھر حتی قیل لن یتصدعا وعشنا بخیر في الحیاۃ وقبلنا أصاب المنایا رھط کسری وتبعا ولما تفرقنا کأني ومالکا لطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا ’’ویدل لما قالہ بعض أھل العلم ما أخرجہ مسلم عن عائشۃ قالت:کیف أقول یا رسول اللّٰه! إذا زرت القبور؟ فقال:قولي:السلام علیٰ أھل الدیار من المسلمین والمؤمنین،یرحم اللّٰه المتقدمین منا والمتأخرین،وإنا إن شاء اللّٰه بکم لاحقون،وما أخرج الحاکم من حدیث علي بن الحسین أن فاطمۃ رضی اللّٰه عنہا کانت تزور قبر عمھا حمزۃ کل جمعۃ [1] فتح الباري (۳/ ۱۴۹)