کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 263
جانا دشوار ہے تو ایسی صورت میں کیا ہم کو شریعت اجازت دیتی ہے کہ ہم اپنے جنازے کو غیر مسلموں کی طرح گاڑیوں میں لے جائیں ؟ بینوا توجروا! راقم:احمد محمد پٹیل،گھر نمبر ۲۸ گلی نمبر ۲۶،پوسٹ بکس نمبر ۳۰۱،رنگون جواب:جنازہ کو قبرستان تک کندھوں پر لے جانا چاہیے اور دفن کے لیے جتنے مسلمان قبرستان میں جائیں،سب کو جنازے کے ساتھ چلنا چاہیے اور ہر ایک پر حق ہے کہ کچھ دور تک باری باری جنازے کو اٹھا کر لے چلے۔یہی طریقہ مسنون ہے،پس حتی الوسع جنازے کو اسی طریق پر قبرستان تک لے جانا چاہیے اور اس میں کچھ مشقت اور تکلیف ہو تو اس کو سہنا اور برداشت کرنا چاہیے۔اگر قبرستان دور ہونے کی وجہ سے اس طریق پر جنازہ کا لے جانا دشوار ہو تو اجرت دے کر مسلمان قلیوں کے کندھوں پر لے جانا چاہیے اور اگر کسی وجہ سے اس طریق پر بھی لے جانا دشوار ہو تو اس صورت میں جنازہ کو گاڑیوں میں لے جانا بلاشبہہ جائز و درست ہے۔ قال اللّٰه تعالیٰ:{ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} [البقرۃ:۲۸۶] واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفي عنہ۔(۹/ ربیع الأول ۱۳۳۹ھ) عورتوں کے لیے زیارتِ قبور اور ارواحِ اموات کے حالات: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عورت مومنہ بے قرار کو زیارتِ قبور مطابق سنت رخصت ہے یا نہیں اور بعد وفات کے روح انسان کی چالیس روز تک ہفتہ وار آتی ہے یا نہیں یا تمام عمر آتی رہتی ہے اور بعد وفات کے نابالغ کی روح بڑھتی ہے یا نہیں ؟ جواب:اگر عورت صابر ہے اور اس سے کسی قسم کے فتنے کا خوف نہیں ہے اور نہ اس امر کا خوف ہے کہ قبرستان میں جا کر روئے گی،چلائے گی اور بے صبری کی حرکتیں کرے گی تو اس کے لیے گاہے گاہے زیارتِ قبور مطابق سنت کے جائز و رخصت ہے،لیکن اگر بے صبر ہے اور اس سے امر مذکور کا خوف ہے تو اس کے لیے جائز نہیں۔نیل الاوطار میں ہے: ’’قال القرطبي:ھذا اللعن إنما ھو للمکثرات من الزیارۃ لما تقتضیہ الصیغۃ من المبالغۃ،ولعل السبب ما یفضي إلیہ ذلک من تضییع حق الزوج والتبرج وما ینشأ منھن من الصیاح ونحو ذلک،فقد یقال:إذا أمن من جمیع ذلک فلا مانع من الإذن لھن،لأن تذکر الموت یحتاج إلیہ الرجال والنساء،انتھیٰ،وھذا الکلام ھو الذي ینبغی اعتمادہ في الجمع بین الأحادیث المتعارضۃ في الظاھر‘‘[1] انتھیٰ [1] نیل الأوطار (۴/ ۱۶۵)