کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 262
قبر پر کس رخ کھڑے ہو کر دعا کرنا چاہیے؟ سوال:قبرستان میں جا کر مردے کی مغفرت کے واسطے قرآن پاک پڑھنا ہو تو قبر پر کس رخ ہو کر کھڑے ہوناچاہیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا عادت شریف تھی اور کون سے رخ کھڑے ہو کر قبر پر پڑھنا چاہیے؟ بہتر طریقہ کیا ہے؟ اس کا ثبوت صحیح طور پر ہونا چاہیے۔ جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارتِ قبور کے متعلق یہ عادت شریف تھی کہ جب آپ قبرستان میں داخل ہوتے تو کہتے: (( السلام علیکم،یا أھل القبور! یغفر اللّٰه لنا ولکم،أنتم سلفنا ونحن بالأثر )) [1] پھر مردوں کی طرف اپنے چہرہ مبارک کو سامنے کر کے ان کے لیے دعا و استغفار کرتے اور کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ہاتھ اٹھا کر بھی دعا کرنا ثابت ہے۔صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لے گئے اور دیر تک کھڑے رہے،پھر تین بار دعا کے واسطے ہاتھ اٹھایا۔[2] مشکاۃ شریف میں ہے: ’’عن ابن عباس قال:مر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بقبور بالمدینۃ،فأقبل علیھم بوجہہ،فقال:(( السلام علیکم یا أھل القبور! یغفر اللّٰه لنا ولکم،أنتم سلفنا ونحن بالأثر )) رواہ الترمذي،وقال:ھذا حدیث حسن غریب۔[3] زیارتِ قبر کے وقت احادیثِ صحیحہ سے قرآن پڑھنا ثابت نہیں ہوتا۔[4] ہاں بعض ضعیف روایتوں میں زیارتِ قبر کے وقت پڑھنا اور اس کا ثواب مردوں کو بخشنا آیا ہے،[5] لیکن ان میں اس کی تصریح نہیں آئی ہے کہ کس رخ کھڑے ہو کر قرآن پڑھے۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ أملاہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه تعالیٰ عنہ۔ کیا گاڑی پر جنازہ قبرستان لے جانا درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ مسلمانانِ رنگون کے واسطے قبرستان شہر سے بہت فاصلے پر گورنمنٹ نے مقرر کیا ہے،جس کی مسافت چار میل ہے۔اتنا فاصلہ کاندھوں پر جنازے کو لے [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۰۵۳) اس کی سند میں ’’قابوس بن ابی ظبیان‘‘ ضعیف ہے۔البتہ صحیح مسلم (۹۷۵) میں زیارتِ قبور کے لیے یہ دعا مروی ہے:(( السلام علیکم أھل الدیار من المؤمنین والمسلمین! وإنا إن شاء اللّٰہ للاحقون،أسأل اللّٰه لنا ولکم العافیۃ )) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۹۷۴) [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۰۵۳) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۳۹۷) اس کی سند ضعیف ہے،جیسا کہ اوپر مذکور ہے۔ [4] بلکہ قبرستان میں قرآن مجید پڑھنے کی ممانعت صحیح احادیث میں مروی ہے۔دیکھیں:صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۸۰) [5] دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۱۲۹۰) إرواء الغلیل (۶۸۸)