کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 261
پڑھ دینا چاہیے،تاکہ لوگ سن کر معلوم کر لیں۔آہستہ پڑھنے کی تائید ابو امامہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے: ’’عن أبي أمامۃ بن سھل أنہ أخبرہ رجل من أصحاب النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أن السنۃ في الصلاۃ علیٰ الجنازۃ أن یکبر الإمام،ثم یقرأ بفاتحۃ الکتاب بعد التکبیرۃ الأولیٰ سرا في نفسہ،ثم یصلي علیٰ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم،ویخلص الدعاء للجنازۃ في التکبیرات،ولا یقرأ في شییٔ منھن،ثم یسلم سرا في نفسہ۔رواہ الشافعي في مسندہ‘‘[1] (منتقیٰ الأخبار) [ایک صحابی نے کہا:نمازِ جنازہ میں سنت یہ ہے کہ امام تکبیر کہے،پھر تکبیر اولیٰ کے بعد الحمد پڑھے،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے،پھر میت کے لیے دعا کرے اور ان تکبیروں میں قراء ت نہ کرے،پھر آہستہ آواز سے سلام پھیرے] قال الحافظ في التلخیص (ص:۱۶۱):وضعفت روایۃ الشافعي بمطرف،لکن قواھا البیھقي بما رواہ في المعرفۃ من طریق عبید اللّٰه بن أبي زیاد الرصافي عن الزھري بمعنی روایتہ‘‘ انتھیٰ [حافظ نے تلخیص میں کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے،لیکن اس کی تائید ایک اور حدیث سے ہوجاتی ہے] نیز آہستہ پڑھنے کی تائید ابو سلمہ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے: ’’السنۃ علیٰ الجنازۃ أن یکبر الإمام،ثم یقرأ القرآن في نفسہ‘‘[2] الحدیث رواہ ابن أبي حاتم في العلل،ذکرہ الحافظ في التلخیص (ص:۱۶۰) [جنازے میں سنت یہ ہے کہ امام تکبیر کہے،پھر آہستہ آواز سے قرآن پڑھے] انھیں روایات کی وجہ سے جمہور کا یہ مذہب ہے کہ نمازِ جنازہ میں فاتحہ اور سورت جہر سے پڑھنا مستحب نہیں ہے۔نیل الاوطار (۳/ ۲۹۸) میں ہے: ’’وذھب الجمھور إلیٰ أنہ لا یستحب الجھر في صلاۃ الجنازۃ،وتمسکوا بقول ابن عباس المتقدم:لم أقرأ أي جھرا إلا لتعلموا أنہ سنۃ،وبقولہ في حدیث أبي أمامۃ:سرا في نفسہٖ‘‘ انتھی،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [جمہور کا مسلک یہ ہے کہ جنازے میں بلند آواز سے قراء ت مستحب نہیں ہے،انھوں نے ابن عباس اور ابو امامہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] [1] نیل الأوطار (۴/ ۴۴۸) نیز دیکھیں:مسند الشافعي (۱۶۴۴) [2] التلخیص الحبیر (۲/ ۱۲۰) [3] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۶۰)