کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 255
کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] رات کے وقت میت کو دفن کرنا جائز ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید کہتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی رات کے وقت دفن کرنے کو منع فرمایا،عمرو اس مسئلے کی تفسیر کا متلاشی ہے،ازروئے شرع شریف کے جواب عنایت فرمائیں۔ جواب:رات کے وقت مردہ دفن کرنا جائز ہے،چنانچہ حضرت کے زمانے میں ایک شخص تھے کہ رات کو ان کا انتقال ہوگیا اور رات ہی کو لوگوں نے ان کو دفن بھی کر دیا،پھر صبح ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ کو کیوں خبر نہ کی؟ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر کے پاس تشریف لے گئے اور ان پر جنازہ کی نماز پڑھی۔منتقیٰ میں ہے: ’’عن ابن عباس قال:مات إنسان کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یعودہ؛ فمات باللیل فدفن لیلاً فلما أصبح أخبروہ،فقال:ما منعکم أن تعلموني؟ قالوا:کان اللیل فکرھنا،وکانت ظلمۃ،أن نشق علیک فأتیٰ قبرہ فصلیٰ علیہ‘‘[2] رواہ البخاري وابن ماجہ،وقال البخاري:ودفن أبوبکر لیلا۔ [عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:ایک آدمی رات کو فوت ہوگیا (رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پُرسی کرتے تھے) اور رات ہی کو اسے دفن کر دیا گیا۔جب صبح ہوئی تو آپ کو اطلاع دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے مجھے کیوں نہ اطلاع دی؟ انھوں نے کہا:رات تھی اور اندھیرا تھا،آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا،پھر آپ اس کی قبر پر آئے اور نماز پڑھی] جب لوگوں نے رات کو دفن کرنے کا اپنا واقعہ بیان کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع نہیں فرمایا،بلکہ یہ فرمایا کہ مجھ کو کیوں نہ خبر کی،میں بھی تمھارے ساتھ دفن میں شریک ہوتا؟ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ رات کو دفن کرنا جائز ہے،ہاں البتہ ایک حدیث سے ممانعت کا شبہہ ہوتا ہے،چنانچہ منتقیٰ میں ہے: ’’عن جابر أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم خطب یوماً فذکر رجلا من أصحابہ قبض وکفن في کفن غیر طائل وقبر لیلاً فزجر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أن یقبر الرجل لیلاً حتی یصلی علیہ إلا أن یضطر إنسان إلی ذلک،وقال النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم:إذا کفن أحدکم أخاہ فلیحسن کفنہ‘‘[3] [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۸۳) [2] نیل الأوطار (۴/ ۱۳۷) نیز دیکھیں:صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۱۹۰) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۵۳۰) [3] نیل الأوطار (۴/ ۴۲۴) نیز دیکھیں:مسند أحمد (۳/ ۲۹۵) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۹۴۳) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۱۴۸) سنن النسائي،رقم الحدیث (۱۸۹۵)