کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 254
لحدہ فقل:بسم اللّٰه وعلیٰ سنۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم،ثم أطلق عقد رأسہ وعقد رجلیہ‘‘ [اس کو غسل اور کفن دیا،پھر اپنے غلام کو کہا:اس کو قبر میں لے جا کر دفن کر دو،جب اسے لحد میں رکھو تو کہو:اﷲ کے نام اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر۔پھر اس کا پاؤں اور سر کا بند کھول دینا] علمائے حنفیہ و شافعیہ نے لکھا ہے کہ مٹی دیتے وقت آیت { مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ الخ} پڑھنا مستحب ہے۔علامہ شوکانی نیل الاوطار (۳/ ۳۲۳) میں لکھتے ہیں: ’’قولہ:من قبل رأسہ۔فیہ دلیل علیٰ أن المشروع أن یحثي علیٰ المیت من جھۃ رأسہ،ویستحب أن یقول عند ذلک:{مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی} [طٰہٰ:۵۵] ذکرہ أصحاب الشافعي‘‘ انتھیٰ [ان الفاظ:’’سر کی جانب سے‘‘ میں دلیل یہ ہے کہ میت پر مٹی سر کی جانب سے ڈالنا مستحب ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس وقت یہ آیت پڑھے:’’اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری مرتبہ نکالیں گے۔‘‘ اس کو امام شافعی کے اصحاب نے ذکر کیا ہے] اسی طرح ’’سبل السلام‘‘ میں بھی لکھا ہے اور اس بارے میں ایک ضعیف حدیث آئی ہے۔مرقاۃ شرح مشکاۃ میں ہے: ’’وروی أحمد بإسناد ضعیف أنہ یقول مع الأولیٰ:{مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ}،ومع الثانیۃ:{وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ}،ومع الثالثۃ:{وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی} ‘‘[1] یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بار مٹی ڈالنے کے وقت {مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ} پڑھتے اور دوسری بار میں {وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ} پڑھتے اور تیسری بار میں {وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی} پڑھتے تھے۔ایک حدیث ضعیف میں میت کو قبر میں رکھنے کے وقت بھی اس آیت کا پڑھنا آیا ہے۔نیل الاوطار (۳/ ۳۲۱) میں ہے: ’’وعن أبي أمامۃ عند الحاکم والبیھقي بلفظ:لما وضعت أم کلثوم بنت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في القبر قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:{مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی}،وفي سبیل اللّٰه وعلیٰ ملۃ رسول اللّٰه،الحدیث،وسندہ ضعیف‘‘ انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [امام حاکم اور بیہقی رحمہم اللہ نے ابو امامہ سے ان الفاظ میں روایت کی ہے:جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی امِ کلثوم کو ان کی قبر میں رکھا گیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت:{مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی} اور یہ دعا:(( في سبیل اللّٰه وعلی ملۃ رسول اللّٰه )) ’’اﷲ کی راہ میں اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر… الحدیث‘‘ پڑھی اور اس کی سند ضعیف ہے] [1] مرقاۃ المفاتیح (۳/ ۱۲۲۳) نیز دیکھیں:مسند أحمد (۵/ ۲۵۴) اس سند میں ’’علی بن یزید‘‘ اور بعض دیگر رواۃ ضعیف ہیں۔