کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 253
اس کے وقت اور موقع کا کچھ تذکرہ آیا ہے اور نہ اس کا بیان آیا ہے کہ کس چیز سے باندھنا اور کتنے بند باندھنا چاہیے،ہاں فقہا لکھتے ہیں کہ اگر کفن کے منتشر ہونے اور میت کے کھل جانے کا خوف ہو تو کفن کو دھجی سے باندھ دیں اور قبر میں رکھنے کے بعد کفن کے منتشر ہونے کا خوف نہیں رہتا،اس وجہ سے قبر میں بند کھول دینے کو لکھا ہے۔ہدایہ میں ہے: ’’وإن خافوا أن ینتشر الکفن عنہ،عقدوہ بخرقۃ صیانۃ عن الکشف،وإذا وضع في لحدہ یحل العقدۃ لوقوع الأمن من الانتشار‘‘[1] انتھیٰ ملخصاً [اگر ان کو یہ خدشہ ہو کہ اس (میت) کا کفن منتشر ہو جائے گا تو وہ اسے کسی چیتھڑے (بند) سے باندھ دیں،تاکہ وہ کھل نہ جائے اور جب اس کو اس کی لحد میں رکھ دیا جائے تو بند کھول دیے جائیں،کیوں کہ اب اس کے منتشر ہونے کا خوف نہیں رہا] اس آیت {مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ۔۔۔الخ} کا مٹی دیتے وقت پڑھنا معلوم نہیں ہوتا اور میت کو لحد میں قبلہ رخ متوجہ کر دینا حدیث سے ثابت ہے۔حافظ ابن حجر تخریجِ ہدایہ میں لکھتے ہیں: ’’وأما التوجہ إلیٰ القبلۃ ففیہ حدیث أبي ھریرۃ وقتادۃ أن البراء بن معرور لما توفي أوصیٰ أن یوجہ إلیٰ القبلۃ فقال النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم:أصاب۔صححہ الحاکم‘‘[2] [لیکن میت کو قبلہ رخ کرنے کے بارے میں ابوہریرہ اور قتادہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ براء بن معرور رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو انھوں نے وصیت کی کہ ان کو (قبر میں)قبلہ رخ لٹایا جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اس نے درست کہا ہے۔‘‘] حررہ:عبد الرحیم،عفي عنہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق کفن پر بند باندھنے اور اس کو قبر میں کھول دینے کے بارے میں کوئی حدیث مرفوع نظر سے نہیں گزری،ہاں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا ایک اثر اس بارے میں دیکھنے میں آیا ہے۔شرح معانی الآثار (۱/ ۲۹۲) میں عثمان بن جحاش سے روایت ہے کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا انتقال کر گیا تو انھوں نے اس کو غسل دیا اور کفنایا،پھر اپنے غلام سے کہا کہ اسے دفن کے لیے لے جاؤ اور جب اس کو قبر میں رکھنا تو ’’بِسم اللّٰه وعلیٰ سنۃ رسول اللّٰه ‘‘ کہنا،پھر اس کے سر کی گرہ اور اس کے پیر کی گرہ کھول دینا۔ولفظہ ھکذا: ’’فغسل بین یدیہ،وکفن بین یدیہ،ثم قال لمولاہ:انطلق بہ إلی حفرتہ؛ فإذا وضعتہ في [1] الھدایۃ (ص:۸۹) [2] الدرایۃ في تخریج أحادیث الھدایۃ (۱/ ۲۲۹)