کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 252
کیا میت کو حائضہ غسل دے سکتی ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ اگر میت کو حائضہ غسل دے تو جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:حائضہ کا غسل دینا جائز ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے زانو پر سر رکھ کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے تھے اور حضرت عائشہ حائضہ ہوتی تھیں،[1] نیز آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جبکہ وہ حالتِ حیض میں ہوتیں،مصلیٰ وغیرہ طلب کرتے تھے[2] تو یہ بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب سید محمد نذیر حسین هو الموافق اگر میت کو حائضہ غسل دے تو بلاشبہہ جائز ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنے سر مبارک کو مسجد سے نکالتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں بیٹھی ہوئی حالتِ حیض میں آپ کے سر مبارک کو دھوتیں۔صحیح بخاری میں ہے: ’’وکان یخرج رأسہ،وھو معتکف فأغسلہ وأنا حائض‘‘[3] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے حجرے کے اندر کر دیتے اور میں سر دھو دیتی،حالاں کہ میں حائضہ ہوتی] پس جب حائضہ کو زندہ کا بعض عضو دھونا جائز ہے تو میت کو غسل دینا بھی بلاشبہہ جائز ہوگا۔واللّٰه أعلم بالصواب۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[4] کیا میت کے کفن کو باندھنا درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں کہ دہلی میں کفن پر تین بند باندھنے اور قبر میں دو بند کھولنے اور کمر کے بند نہ کھولنے کی رسم ہے،پھر مٹی دیتے وقت آیت:{ مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ۔۔۔الخ} پڑھتے ہیں اور کفن کو کھول کر قبلہ رخ میت کا منہ موڑ دینے کا رواج ہے۔پس سوال یہ ہے کہ شرع شریف میں بند باندھنے کی صورت،وقت،موقع کیا لکھا ہے اور کس چیز سے باندھنے کا حکم ہے اور جبکہ بند باندھنا ضروری نہیں تو تمام ملک میں اس کا رواج لازمی طور سے کیوں ہے؟ جواب:کسی آیت یا حدیث میں کفن پر بند باندھنے کا کچھ ذکر آیا ہے،نہ اس کی صورت کا کچھ ذکر آیا ہے اور نہ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۹۳) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۹۸) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۹۵) [4] مقدمۃ ابن الصلاح (ص:۱۷۸) فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۸۲)