کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 251
منافاۃ و مخالفۃ أصلا لما رواہ غیرہ،کالحدیث الذي تفرد بروایۃ جملتہ ثقۃ،ولا تعرض فیہ لما رواہ الغیر بمخالفۃ أصلا،فھذا مقبول،وقد ادعی الخطیب فیہ اتفاق العلماء علیہ،وسبق مثالہ في نوع الشاذ‘‘[1] انتھیٰ [ثقہ جس میں متفرد ہو،اس کی میں نے تین قسموں کی طرف تقسیم دیکھی ہے:ایک یہ ہے کہ وہ اس روایت کے مخالف و منافی واقع ہو جس کو تمام ثقات نے روایت کیا ہے تو اس کا حکم رد ہے،جیسا کہ شاذ کی نوع میں یہ پہلے گزر چکا ہے۔دوسری اس میں دوسرے کی بیان کردہ روایت کے ساتھ سرے سے کوئی منافات و مخالفت نہ ہو،جیسے:وہ حدیث جس کی روایت میں جملہ روات ثقہ ہوں اور دوسرے نے جو روایت کی ہے وہ سرے سے اس کی مخالف نہ ہو تو یہ مقبول ہے۔خطیب بغدادی نے اس پر علما کے اتفاق کا دعوی کیا ہے۔اس کی مثال نوعِ شاذ میں گزر چکی ہے] نیز خود شوق نیموی نے بھی تصریح کی ہے کہ حمیدی ثقہ حافظ اور امام ہیں،لہٰذا ان کی زیادتی یقینا قبول کی جائے گی،کیونکہ ان کی زیادتی ان سے اوثق راوی کے منافی نہیں ہے۔ قال في کتابہ آثار السنن:’’فزیادتہ (زیادۃ الحمیدي) تقبل جدًّا،لأنھا لیست منافیۃ لمن ھو أوثق منہ‘‘ انتھیٰ [اس نے اپنی کتاب ’’آثار السنن‘‘ میں کہا ہے:اس (حمیدی) کی زیادتی بالکل قبول کی جائے گی،کیوں کہ وہ اس کے منافی نہیں ہے جو اس سے اوثق ہے] پس جبکہ بقول محدثین ثقہ کی زیادتی اگر اس سے اوثق و اثبت راوی کے معارض و منافی نہ ہو تو مقبول ہوتی ہے اور شوق نیموی نے بھی حمیدی کی زیادتی کو اسی لیے قابلِ قبول بتایا ہے کہ وہ اوثق راوی کے منافی نہیں اور اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ محمد بن اسحاق ثقہ ہیں۔شوق نیموی فرماتے ہیں: ’’وخالف صالح بن کیسان،وھو أوثق وأثبت من ابن إسحاق‘‘ انتھیٰ بلفظہ [صالح بن کیسان نے مخالفت کی ہے اور وہ محمد بن اسحاق سے اوثق اور اثبت ہے] تو اب جواب آسان ہے کہ محمد بن اسحاق کی روایت میں لفظ (( فغسلتک )) کی زیادتی صالح بن کیسان کی روایت کے معارض و منافی نہیں ہے۔یعنی ان کی روایت میں غسل کی نفی وارد نہیں ہوئی ہے بلکہ عدمِ ذکر ہے،لہٰذا محمد بن اسحاق کی روایت میں (( فغسلتک )) کی زیادتی محفوظ اور قابلِ قبول ہے اور اس سے جمہور کا اس امر پر استدلال کہ ’’شوہر اپنی بی بی متوفاۃ کو غسل دے سکتا ہے۔‘‘ بالکل صحیح ہے۔واﷲ تعالیٰ أعلم،وعلمہ أکمل وأتم کتبہ:عبد السمیع [1] مقدمۃ ابن الصلاح (ص:۱۷۸)