کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 250
عیینۃ شاذۃ مع أن إسنادھا في غایۃ الصحۃ،ولیس بینھا وبین روایات غیرہ من الثقات منافاۃ،ولم یجعل روایۃ محمد بن إسحاق شاذۃ مع أنہ رواھا بالعنعنۃ،وتفرد بلفظ ’’سمعت امرأۃ تسأل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘ وھو لا یحتج بما انفرد بہ‘‘ انتھیٰ بلفظہ الشریف۔ [امام ابو داود نے جو ان الفاظ میں روایت کی ہے:’’اس نے کہا:میں نے ایک عورت کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا‘‘ تو یہ ضعیف ہے۔اس کی سند میں محمد بن اسحاق ہے جو مدلس ہے اور اس نے اس روایت کو فاطمہ بنت منذر سے عن کے ساتھ روایت کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ان الفاط کی روایت میں منفرد بھی ہے،اس کے علاوہ کسی نے یہ الفاظ روایت نہیں کیے۔نیموی نے ’’باب القراء ۃ خلف الإمام‘‘ میں کہا ہے کہ جس میں وہ متفرد ہو،وہ روایت حجت نہیں ہوتی۔تعجب کی بات ہے کہ نیموی نے ابن عیینہ کی روایت کو کس طرح شاذ قرار دیا،جب کہ اس کی اسناد انتہائی زیادہ صحیح ہے۔اس روایت اور اس کے علاوہ دیگر ثقات کی روایات میں کوئی منافات نہیں ہے،جبکہ اس نے محمد بن اسحاق کی روایت کو شاذ قرار نہیں دیا،باوجودیکہ اس نے اسے عن سے بیان کیا ہے اور وہ ان الفاظ کے بیان میں متفرد ہے:’’سمعت امرأۃ سأل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ اور وہ اس روایت میں حجت نہیں ہے،جس میں وہ متفرد ہو] اب سوال کا جواب ملاحظہ کیجیے! شوق نیموی کا لفظ (( فغسلتک )) کو غیر محفوظ بتانا غفلت یا عصبیت پر مبنی ہے۔سوال میں یہ جو لکھا گیا ہے کہ ’’ثقہ کی زیادتی جب اوثق و اثبت راوی کے مخالف ہو تو وہ زیادتی نا مقبول ہوتی ہے۔‘‘ تو ’’مخالفت‘‘ سے مراد منافات ہے اور حق اور صواب یہ ہے کہ اکثر محدثین کے نزدیک ثقہ کی زیادتی،جبکہ اس سے اوثق و اثبت راوی کی روایت کے معارض و منافی ہو تو نا مقبول ہوتی ہے اور معارض و منافی نہ ہو تو مقبول ہوتی ہے۔چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں لکھتے ہیں: ’’وزیادۃ راویھما،أي:الصحیح والحسن،مقبولۃ ما لم تقع منافیۃ لروایۃ من ھو أوثق ممن لم یذکر تلک الزیادۃ‘‘[1] انتھیٰ،کذا في أبکار المنن (ص:۱۰۴) [ان دونوں،یعنی صحیح و حسن،کے راوی کی زیادتی مقبول ہے جب تک وہ اس راوی کی روایت کے منافی نہ ہو جو اس سے اوثق ہے جس نے یہ زیادتی بیان نہیں کی] نیز حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ اپنے مقدمہ کی ’’نوع سادس عشر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’وقد رأیت تقسیم ما یتفرد بہ الثقۃ إلی ثلاثۃ أقسام:أحدھا:أن یقع مخالفا منافیا لما رواہ سائر الثقات،فھذا حکمہ الرد،کما سبق في نوع الشاذ۔الثاني:أن لا یکون فیہ [1] نزھۃ النظر (ص:۸۲)