کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 249
کتاب الجنائز خاوند کا اپنی فوت شدہ بیوی کو غسل دینا: سوال:جمہور علما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث:(( لَوْ مِتِّ قَبْلِيْ فَقُمْتُ عَلَیْکِ فَغَسَّلْتُکِ )) [1] سے استدلال کیا ہے کہ شوہر اپنی بیوی متوفاۃ کو غسل دے سکتا ہے۔ اس حدیث میں لفظ (( فغسلتک )) غیر محفوظ اور ناقابلِ قبول ہے،جیسا کہ شوق نیموی مرحوم نے آثار السنن (۲/۱۱۷) میں لکھا ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس لفظ کے روایت کرنے میں محمد بن اسحاق متفرد ہیں اور جب کسی روایت میں محمد بن اسحاق متفرد ہوں تو وہ روایت ناقابلِ احتجاج ہوتی ہے۔نیز صالح بن کیسان نے اس لفظ کے نقل کرنے میں محمد بن اسحاق کی مخالفت کی ہے،یعنی انھوں نے اس حدیث کو بدون لفظ (( فغسلتک )) کے روایت کیا ہے اور صالح بن کیسان،محمد بن اسحاق سے اَوثق و اَثبت ہیں اور بقاعدہ اصولِ حدیث ثقہ کی زیادتی جب اَوثق و اَثبت راوی کے مخالف ہو تو وہ زیادتی نا مقبول ہوتی ہے،پس جمہور علما کا لفظ (( فغسلتک )) سے استدلال صحیح نہیں ہے۔ اس کا کیا جواب ہے؟ بینوا توجروا! جواب:کمال تعجب تو یہ ہے کہ شوق نیموی نے آثار السنن،’’باب القراء ۃ خلف الإمام‘‘ میں محمد بن اسحاق کے متعلق لکھا ہے:’’لا یحتج بما انفرد بہ‘‘ یعنی جس امر میں محمد بن اسحاق متفرد ہوں،اس میں وہ قابلِ احتجاج نہیں،لیکن خود ہی انھوں نے ’’باب نجاسۃ دم الحیض‘‘ میں حافظ ابن حجر کے ایک قول کے جواب میں محمد بن اسحاق کی اس روایت سے احتجاج کیا ہے،جس میں وہ لفظ ’’سمعت امرأۃ‘‘ کے ذکر کرنے میں متفرد ہیں اور محمد بن اسحاق کا اس لفظ کے ذکر کرنے میں متفرد ہونا خود شوق نیموی کے کلام سے ظاہر ہے۔ حضرت استاذ امام رحمہ اللہ ’’أبکار المنن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’وأما ما رواہ أبو داود بلفظ:’’قالت:سمعت امرأۃ تسأل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم،‘‘ فھو ضعیف،فإن في سندہ محمد بن إسحاق،وھو مدلس،و رواہ عن فاطمۃ بنت المنذر بالعنعنۃ،ومع ھذا فقد تفرد ھو بھذا اللفظ،ولم یقلہ غیرہ،وقد قال النیموي في باب القراء ۃ خلف الإمام:ھو لا یحتج بما انفرد بہ۔فیا للّٰه العجب! کیف جعل النیموي روایۃ ابن [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۴۶۵)