کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 248
ساتھ تکبیر کہتی تھیں۔ فتح الباری میں ہے کہ امام بخاری نے جو یہ آثار نقل کیے ہیں،سو ان آثار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان دنوں میں تکبیرِ تشریق کا وجود تھا نمازوں کے پیچھے بھی اور نماز کے علاوہ اور وقتوں میں بھی۔تکبیرِ تشریق کے متعلق علما کے درمیان کئی مقام میں اختلاف ہے۔سو بعض علما نے تکبیرِ تشریق کو نمازوں کے ساتھ خاص کر دیا ہے (یعنی وہ کہتے ہیں کہ تکبیرِ تشریق کو فقط نمازوں کے بعد کہنا چاہیے اور دوسرے وقتوں میں نہیں)بعض نے فرض نمازوں کے ساتھ خاص کر دیا ہے (یعنی وہ کہتے ہیں کہ صرف فرض نمازوں کے بعد تکبیرِ تشریق کہنا چاہیے،نوافل کے بعد نہیں)بعض نے کہا ہے کہ صرف مردوں کو کہنا چاہیے،عورتوں کو نہیں اور جماعت سے نماز پڑھنے والے کو کہنا چاہیے،تنہا پڑھنے والے کو نہیں اور جو نماز ادا کی جائے اس کے بعد چاہیے،قضا کے بعد نہیں اور مقیم کو چاہیے،مسافر کو نہیں اور شہر کے رہنے والے کو چاہیے،دیہات کے رہنے والے کو نہیں۔امام بخاری کے نزدیک مختار یہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو اور ان تمام وقتوں میں اور ان تمام جگہوں میں تکبیرِ تشریق کہنا چاہیے۔ امام بخاری کے اس مختار کی تائید آثارِ مذکورہ سے ہوتی ہے۔علما کے درمیان تکبیرِ تشریق کے ابتدا و انتہا میں بھی اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں یومِ عرفہ کی صبح سے شروع کرنا چاہیے اور بعض نے اس کی ظہر سے اور بعض نے کہا کہ اس کی عصر سے اور بعض نے کہا کہ دسویں تاریخ کی صبح سے اور بعض نے کہا کہ اس کی ظہر سے اور اس کا آخری وقت بعض نے دسویں تاریخ کی ظہر تک بتایا ہے اور بعض نے اس کی عصر تک اور بعض نے گیارھویں تاریخ کی ظہر تک اور بعض نے آخر ایامِ تشریق کی صبح تک اور بعض نے اس کی ظہر تک اور بعض نے اس کی عصر تک،لیکن ان باتوں میں سے کسی بات کے متعلق کوئی حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں زیادہ صحیح قول حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن مسعود کا ہے کہ تکبیرِ تشریق یومِ عرفہ کی صبح سے آخر ایام منی تک ہے،اس کو ابن المنذر وغیرہ نے روایت کیا ہے۔واﷲ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۴)