کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 247
قال الإمام البخاري في صحیحہ:باب التکبیر أیام منیٰ،وإذا غدا إلی عرفۃ،وکان عمر رضی اللّٰه عنہ یکبر في قبتہ بمنیٰ فیسمعہ أھل المسجد فیکبرون،ویکبر أھل الأسواق حتی ترتج منیٰ تکبیرا،و کان ابن عمر یکبر بمنیٰ تلک الأیام،وخلف الصلوات وعلیٰ فراشہ،وفي فسطاطہ،ومجلسہ،وممشاہ تلک الأیام جمیعا،وکانت میمونۃ تکبر یوم النحر،وکن النساء یکبرن خلف أبان بن عثمان و عمر بن عبد العزیز لیالي التشریق مع الرجال في المسجد‘‘[1] انتھیٰ حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’وقد اشتملت ھذہ الآثار علیٰ وجود التکبیر في تلک الأیام عقب الصلوات وغیر ذلک من الأحوال،وفیہ اختلاف بین العلماء في مواضع،فمنھم من قصر التکبیر علیٰ أعقاب الصلوات،ومنھم من خص ذلک بالمکتوبات دون النوافل،ومنھم من خصہ بالرجال دون النساء،و بالجماعۃ دون المنفرد،و بالمؤداۃ دون المقضیۃ،وبالمقیم دون المسافر،وبساکن المصر دون القریۃ،وظاھر اختیار البخاري شمول ذلک للجمیع،والآثار التي ذکرھا تساعدہ،وللعلماء اختلاف أیضاً في ابتدائہ وانتھائہ،فقیل من صبح یوم عرفۃ،وقیل من ظھرہ،وقیل من عصرہ،وقیل من صبح یوم النحر،وقیل من ظھرہ،وقیل في الانتھاء إلی ظھر یوم النحر،وقیل إلی عصرہ،وقیل إلیٰ ظھر ثانیہ،وقیل إلیٰ صبح آخر أیام التشریق،وقیل إلیٰ ظہرہ،حکی ھذہ الأقوال کلھا النووي إلا الثاني من الانتھاء،وقد رواہ البیھقي عن أصحاب ابن مسعود،ولم یثبت في شيء من ذلک عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم حدیث،وأصح ما ورد فیہ عن الصحابۃ قول علي وابن مسعود أنہ من صبح یوم عرفۃ إلی آخر أیام منیٰ۔أخرجہ ابن المنذر وغیرہ‘‘[2] واللّٰه أعلم یعنی صحیح بخاری میں ہے:باب ایام منی کو تکبیر کے بیان میں اور جب عرفہ کو جائے۔عمر رضی اللہ عنہ مقامِ منی میں اپنے قبے میں تکبیر کہتے تھے،پس مسجد کے لوگ سن کر تکبیر کہتے اور بازار کے لوگ تکبیر کہتے،یہاں تک کہ مقامِ منی تکبیر سے گونج اُٹھتا۔ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دنوں میں منی میں تکبیر کہتے تھے اور نمازوں کے پیچھے تکبیر کہتے تھے اور اپنے خیمہ میں اور بیٹھنے کی جگہ میں اور راستے میں تکبیر کہتے تھے اور منی کے تمام دنوں میں۔میمونہ رضی اللہ عنہا قربانی کے دن یعنی دسویں تاریخ کو تکبیر کہتی تھیں اور تشریق کی راتوں میں عورتیں ابان بن عثمان اور عمر بن عبدالعزیز کے پیچھے مسجد میں مردوں کے [1] صحیح البخاري (۱/ ۳۲۹) [2] فتح الباري (۲/ ۴۶۲)