کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 246
کے نکلنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے سے روکنے لگے] حررہ:السید محمد نذیر حسین،عفي عنہ۔ هو الموافق فی الواقع عید گاہ میں نفل پڑھنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں نہ قبل نمازِ عید کے اور نہ بعد نمازِ عید کے،بلکہ نہ پڑھنا ثابت ہے اور اسی طرح قبل نمازِ عید کے گھر میں بھی نفل پڑھنا ثابت نہیں،ہاں بعد نمازِ عید کے گھر میں آکر دو رکعت نفل پڑھنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔بلوغ المرام میں ہے: ’’عن أبي سعید قال:کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لا یصلي قبل العید شیئاً،فإذا رجع إلی منزلہ صلیٰ رکعتین۔[1] رواہ ابن ماجہ بإسناد حسن،وقال في السبل (۱/ ۱۷۳):أخرجہ الحاکم،وأحمد وروی الترمذي عن ابن عمر نحوہ وصححہ‘‘ انتھیٰ [رسول صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز سے پہلے کچھ نہیں پڑھتے تھے اور جب گھر واپس آتے تو دو رکعت پڑھتے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفي عنہ۔[2] نمازِ عیدین و جمعے کے بعد معانقہ و مصافحہ کرنے کی شرعی حیثیت: سوال:نمازِ عیدین و جمعہ کے بعد مصافحہ اور معانقہ کرنا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟ جواب مع دلیل تحریر فرمائیے۔ جواب:مصافحہ عند الملاقات عموماً حدیث سے ثابت ہے اور معانقہ عند قدوم المسافر بھی حدیث سے ثابت ہے۔اس بارے میں کوئی حدیث میری نظر سے نہیں گزری ہے کہ بالخصوص بعد نمازِ عیدین اور جمعہ کے مصافحہ اور معانقہ کرنا چاہیے۔ہاں اگر بعد نمازِ عیدین اور جمعہ کے کسی سے ملاقات ہو تو مصافحہ کرے،اسی طرح اگر مسافر بعد نمازِ عیدین اور جمعہ کے آجائے تو اس سے معانقہ کرے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔إنہ لحق۔کتبہ:أبو العلیٰ محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔عفا اللّٰه عنہ۔ کیا ایامِ تشریق کی تکبیرات امام اور مقتدیوں کو بلند آواز سے کہنا درست ہے؟ سوال:تکبیراتِ ایامِ تشریق کی امام و مقتدی کو آواز بلند سے کہنا چاہیے یا پوشیدہ؟ جواب:امام و مقتدی دونوں کو تکبیرات ایامِ تشریق بلند آواز سے کہنا چاہیے۔ھکذا یستفاد من کتب الأحادیث والفقہ،واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ:السید أبو الحسن عفي عنہ۔سید محمد نذیر حسین هو الموافق تکبیراتِ تشریق کے متعلق امام بخاری نے اپنی صحیح میں اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں جو کچھ لکھا ہے،اس کو مع ترجمہ یہاں لکھ دینا مفید معلوم ہوتا ہے۔ [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۲۹۳) صحیح ابن خزیمۃ (۱۴۶۹) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۳۱)