کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 245
(( وأحسن الکلام کلام اللّٰه وخیر الھدي ھدي محمد )) [1] [بہترین کلام اﷲ کا کلام ہے اور بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے] وما علینا إلا البلاغ،واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ:السید محمد نذیر حسین،عفي عنہ۔ مسئلہ واضح ہو کہ عید گاہ میں نفل پڑھنے کی بابت علما کا اختلاف ہے۔علماے سلف کوفہ کے قبل نماز عید کے عید گاہ میں نفل پڑھنا جائز نہیں رکھتے اور بعد نماز کے جائز رکھتے ہیں اور علما بصرہ کے قبل نماز عید کے جائز رکھتے ہیں اور بعد نماز کے جائز نہیں رکھتے اور علما مدینہ منورہ کے قبل نمازِ عید کے جائز رکھتے ہیں اور نہ بعد نماز عید کے،ان تینوں مذہبوں میں مذہب علمائے مدینہ منورہ کا مطابق فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہے،کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ گھر میں قبل نماز عید کے نفل نماز پڑھی ہے اور نہ عیدگاہ میں قبل نماز کے نہ بعد نماز کے اور نہ صحابہ کرام سے کبھی پڑھنا منقول ہے،پس یہی مذہب حق ہے،اسی پر عمل کرنا چاہیے کہ اِتباعِ سنت امتِ مرحومہ کو نصیب ہو اور اتباع و اقتدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل و ترک فعل دونوں میں ضروری ہے: قال اللّٰه تعالیٰ:{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [ الأحزاب:۲۰] [اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:تمھارے لیے اﷲ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے] وقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( وأحسن الکلام کلام اللّٰه وخیر الھدي ھدي محمد )) [2] الحدیث [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بہترین کلام اﷲ کا کلام ہے اور بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے] لہٰذا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ گھر میں قبل نمازِ عید کے نفل پڑھے اور نہ عیدگاہ میں نہ قبل نمازِ عید کے اور نہ بعد نمازِ عید کے تو جو کوئی برخلاف اس کے کرے،یعنی عیدگاہ میں قبل نماز کے یا بعد نماز کے نفل پڑھے یا گھر میں نفل پڑھ کر عیدگاہ میں جائے،سو وہ حدیث:(( مَن عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد )) [3] [جو کوئی ایسا کام کرے،جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے] کا مصداق ہو گا اور بہ سبب عدم ثبوت نفل کے عید گاہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداﷲ بن مسعود اور حذیفہ رضی اللہ عنہما عیدگاہ میں نفل پڑھنے سے لوگوں کو منع کرتے تھے۔ ’’روی سعید بن منصور في سننہ عن ابن سیرین أن ابن مسعود وحذیفۃ قاما و نھیا الناس أن یصلوا یوم العید قبل خروج الإمام إلی المصلیٰ‘‘[4] واللّٰه أعلم بالصواب۔ [حضرت عبداﷲ بن مسعود اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو عید کے دن امام [1] سنن النسائي،رقم الحدیث (۱۳۱۱) [2] سنن النسائي،رقم الحدیث (۱۳۱۱) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۷۱۸) [4] مجمع الزوائد (۲/ ۲۰۵)