کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 244
قال مالک:وھو الأمر عندنا‘‘ انتھیٰ [نافع رحمہ اللہ عبداﷲ بن عمر کے غلام کہتے ہیں کہ میں نے عید الفطر اور عید الاضحی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھیں،آپ نے پہلی رکعت میں سات تکبیریں قراء ت سے پہلے کہیں اور دوسری میں قراء ت سے پہلی پانچ تکبیریں۔امام مالک کا یہی مذہب ہے] الحاصل حدیث صحیح مرفوع سے عیدین میں بارہ تکبیریں ثابت ہیں اور بارہ تکبیروں کے سوا اور اس سے کم و بیش تکبیرات کے بارے میں جو حدیثیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں،وہ ضعیف ہیں۔واﷲ تعالیٰ أعلم بالصواب۔حررہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اﷲ عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں عید گاہ میں نفل پڑھنا درست نہیں: سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نفل پڑھنا عید گاہ میں قبل نماز عید کے یا بعد نماز عید کے ثابت ہے یا نہیں ؟ جواب:در صورت مرقومہ واضح ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عید گاہ میں نفل پڑھنا ثابت نہیں ہے،نہ قبل نماز عید کے اور نہ بعد نماز عید کے،بلکہ نہ پڑھنا ثابت ہے۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے: ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم صلیٰ یوم الفطر رکعتین،لم یصل قبلھما ولا بعدھما‘‘[2] رواہ البخاري و مسلم کذا في المشکوۃ۔ ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں دن فطر کے دو رکعتیں نہ پڑھی پہلے ان کے اور نہ پیچھے ان کے۔‘‘ اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا۔ اور امت کو کرنے نہ کرنے دونوں میں اقتدا و اتباع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی لازم ہے،چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب:۲۰] [تمھارے لیے اﷲ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے] نیز فرماتا ہے: {وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا} [الحشر:۷] [جو رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے روکے اس سے باز آجاؤ] نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۳۰) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۹۲۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۸۸)