کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 243
تکبیراتِ عیدین کی تعداد: سوال:عیدین کی تکبیریں حدیث شریف سے کس قدر ثابت ہیں ؟ جواب:حدیث شریف سے نمازِ عیدین میں بارہ تکبیریں ثابت ہیں۔پہلی رکعت میں سات تکبیریں قبل قراء ت کے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قبل قراء ت کے،اور یہی قول ہے اکثر اہلِ علم صحابہ و تابعین اور ائمہ کا،اور یہی مروی ہے حضرت عمر اور ابوہریرہ اور ابو سعید اور جابر اور ابن عمر اور ابن عباس اور ابو ایوب اور زید بن ثابت اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے،اور یہی قول ہے مدینے کے فقہاے سبعہ مشہورین کا،اور یہی قول ہے امام مالک اور امام اوزاعی اور امام احمد اور امام اسحاق کا،جیسے:’’نیل الأوطار‘‘ (۳/۱۸۴) میں ہے۔منتقی الاخبار میں ہے: ’’عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم کبر في عید ثنتي عشرۃ تکبیرۃ،سبعا في الأولیٰ،وخمسا في الآخرۃ،ولم یصل قبلھا ولا بعدھا۔رواہ أحمد و ابن ماجہ۔قال أحمد:أنا أذھب إلی ھذا۔وفي روایۃ:قال النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم:التکبیر في الفطر سبع في الأولیٰ،وخمس في الآخرۃ،والقراء ۃ بعدھما کلتیھما۔رواہ أبوداود والدارقطني۔ [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں بارہ تکبیریں پڑھیں،سات پہلی میں اور پانچ دوسری میں اور اس سے پہلے یا پیچھے کوئی نماز نہ پڑھی۔امام احمد کا یہی مذہب ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عید الفطر میں سات تکبیریں پہلی رکعت میں ہیں اور پانچ دوسری میں اور دونوں رکعتوں میں قراء ت تکبیروں کے بعد ہے] قال القاضي الشوکاني في النیل (۳/۱۸۲):حدیث عمرو بن شعیب قال العراقي:إسنادہ صالح،ونقل الترمذي في العلل المفردۃ عن البخاري أنہ قال:إنہ حدیث صحیح انتھیٰ،وقال الحافظ ابن حجر في التلخیص (صفحہ:۱۴۴):و رواہ أحمد و أبو داود و ابن ماجہ والدارقطني من حدیث عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ،وصححہ أحمد وعلي والبخاري فیما حکاہ الترمذي‘‘[1] انتھیٰ [عراقی نے کہا:اس کی سند اچھی ہے۔امام بخاری نے کہا:یہ حدیث صحیح ہے] موطا امام مالک (صفحہ:۶۳) میں ہے: ’’عن نافع مولیٰ عبد اللّٰه بن عمر أنہ قال:شھدت الأضحیٰ والفطر مع أبي ھریرۃ فکبر في الرکعۃ الأولیٰ سبع تکبیرات قبل القراء ۃ،وفي الآخرۃ خمس تکبیرات قبل القرائۃ۔ [1] مسند أحمد (۲/ ۱۸۰) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۱۵۲) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۲۹۱)