کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 240
7۔عند الجمرتین۔ (دیکھیے! ان میں تکبیراتِ عیدین کا ذکر کہاں ہے؟ وإذ لیس فلیس) واضح ہو کہ ہم نے ان دونوں حدیثوں کی صحت و ضعف سے عمداً قطع نظر کر لیا ہے،اس وجہ سے کہ ان کی صحت نہ تو تکبیراتِ عیدین میں عدمِ رفع یدین کے قائلین کے لیے مضر اور قادح ہے،کیونکہ ان میں تکبیراتِ عیدین رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں ہے اور نہ رفع یدین کے قائلین کے لیے مفید اور کارآمد۔لا یسمن ولا یغني من جوع۔ تعجب ہے احناف سے کہ وہ تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کے قائل ہیں،حالاں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنا ثابت نہیں ہے اور جن تکبیرات میں رفع یدین کرنا ثابت ہے،ان میں منع کرتے ہیں۔تلک إذا قسمۃ ضیزیٰ!! الحاصل تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنا کسی حدیث مرفوع صحیح و صریح سے ثابت نہیں ہے،ہاں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرتے تھے،مگر آپ کا یہ فعل اجتہادی تھا،جیسے:آپ وضو میں سات سات مرتبہ پیر دھوتے تھے اور اذان میں اﷲ اکبر تین تین مرتبہ اور حیّ علی خیر العمل کہتے تھے،نیز ابن مسعود رضی اللہ عنہ عیدین کی ہر تکبیر کے درمیان میں اﷲ کی حمد و ثنا کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے تھے۔(سبل السلام:۱/ ۱۱۳) غرض یہ صحابہ کے اجتہادی افعال ہیں،جو حجت نہیں ہو سکتے۔[1] ھذا ما ظھر لي في ھذا الباب،واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:أبو الفضل عبد السمیع المبارکفوري،عفا اللّٰه تعالیٰ عنہ۔ کیا عیدین میں دو خطبے ہیں یا ایک؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ خطبہ عیدین کا ایک ہونا سنت ہے یا دو؟ ہمارے اطراف کے بعض علما کہتے ہیں کہ مطابق شرع شریف کے ایک خطبہ سنت ہے اور بعض علما کہتے ہیں کہ خطبہ عیدین کا مثل جمعہ کے دو ہونا چاہیے۔اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کون حق پر ہے اور سنتِ نبوی کیا ہے؟ بینوا بالدلیل،توجروا عند اللّٰه الجلیل! المستفتي:مولوی سلطان،موضع چھوٹی خوشٹیگری،ڈاکخانہ پورندپور ضلع بیر بھوم جواب:سنت یہی ہے کہ دو خطبے ہوں،حدیثوں میں ایسا ہی آیا ہے۔واﷲ أعلم ابو الوفاء ثناء اﷲ،کفاہ اﷲ،امرتسری مکرمی مولانا عبدالرحمان صاحب،دامت فیوضکم [1] ’’أقوال الصحابۃ لا تنتھض للاحتجاج‘‘ (فتاویٰ نذیریہ:۱/ ۱۹۶) نیل الأوطار (۱/ ۳۸۲) [مولف]