کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 239
جائے مگر سات جگہوں میں اور اُن میں تکبیراتِ عیدین کو بھی ذکر کیا۔ اس حدیث سے بھی تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنے پر استدلال و احتجاج صحیح نہیں ہے،کیونکہ حدیث کی کسی کتاب میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی نہیں ہے اور جن الفاظ کے ساتھ مروی ہے،ان میں تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں ہے۔[1] صاحبِ ہدایہ اپنی تصانیف میں اکثر ایسی حدیثیں نقل کر دیا کرتے ہیں جو کتبِ حدیث میں نہیں ملتیں۔[2] قال الزیلعي في تخریج الہدایۃ:’’قلت:قد تقدم في صفۃ الصلاۃ،ولیس فیہ تکبیرات العیدین‘‘[3] [زیلعی نے تحریجِ ہدایہ میں کہا ہے:میں کہتا ہوں:یہ روایت صفۃ الصلاۃ میں گزر چکی ہے،مگر اس میں عید کی تکبیروں کا ذکر نہیں ہے] وقال الحافظ ابن حجر في الدرایۃ:’’لم أجد ھکذا بصیغۃ الحصر الصریحۃ،ولا بذکر القنوت،ولا تکبیرات العیدین‘‘[4] [حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے درایہ میں کہا:مجھے اس طرح حصر کے صریح صیغے کے ساتھ یہ روایت نہیں ملی ہے،نہ قنوت کے ذکر کے ساتھ اور نہ ہی تکبیراتِ عیدین کے ساتھ] وقال ابن الہمام في فتح القدیر:’’تقدم الحدیث في باب الصلوۃ،ولیس فیہ تکبیرات العید‘‘[5] انتھیٰ [ابن الہمام نے فتح القدیر میں کہا ہے:یہ حدیث ’’باب الصلاۃ‘‘ میں گزر چکی ہے،لیکن اس میں تکبیراتِ عید کا ذکر نہیں ہے] اس حدیث میں جن سات جگہوں میں رفع یدین کرنے کا ذکر ہے،وہ یہ ہیں: 1۔افتتاحِ نماز کے وقت۔ 2۔استقبالِ قبلہ کے وقت۔ 3۔صفا پر۔ 4۔مروہ پر۔ 5۔عرفات پر۔ 6۔موقفین میں۔ [1] طحاوی کی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ابراہیم نخعی کا قول ہے۔(عمدۃ الرعایۃ:۱/ ۳۲۸) [مولف] [2] قال المولوي عبد الحي رحمہ اللّٰه في الأجوبۃ الفاضلۃ:ألا تریٰ إلیٰ صاحب الھدایۃ والرافعي قد ذکرا في تصانیفھما ما لم یوجد لہ أثر عند خبیر بالحدیث‘‘ [مولف] [3] نصب الرایۃ (۲/ ۱۴۹) [4] الدرایۃ في تخریج أحادیث الھدایۃ (۱/ ۱۴۸) [5] فتح القدیر (۲/ ۷۷)