کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 238
جملہ مذکور ہے:’’ویرفعھما في کل تکبیرۃ،یکبرھا قبل الرکوع‘‘[1] یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع کے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے تھے۔ اس حدیث میں تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں ہے اور نہ اس حدیث سے تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنا ہی ثابت ہوتا ہے،کیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث دوسرے طرق سے بھی مروی ہے،جن میں یہ جملہ ’’ویرفعھما في کل تکبیرۃ قبل الرکوع‘‘ نہیں ہے،بجائے اس کے جملہ ’’وإذا أراد أن یرکع رفعھما‘‘[2] وارد ہوا ہے،یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو رفع یدین کرتے۔ قال صاحب الجوھر النقي:وھذہ العبارۃ لم تجیٔ فیما علمنا إلا في ھذہ الطریق؛ وجمیع من روی ھذا الحدیث من غیر ھذہ الطریق لم یذکروا ھذہ العبارۃ،إنما لفظھم:وإذا أراد أن یرکع رفعھما أو نحو ھذا من العبارۃ،وھذا اللفظ الذي وقع في ھذا الباب من طریق بقیۃ‘‘[3] انتھیٰ [جہاں تک ہمیں معلوم ہے کہ یہ عبارت صرف اسی طریق سے مروی ہے۔اس طریق کے علاوہ جنھوں نے بھی اس حدیث کی روایت کی ہے،انھوں نے اس عبارت کو ذکر نہیں کیا ہے۔ان کے الفاظ تو صرف یہ ہیں:جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو رفع یدین کرتے یا اس طرح کی کوئی عبارت ذکر کی ہے،اس باب میں جو یہ الفاظ واقع ہیں،یہ بقیہ کے واسطے سے ہیں ] پس جمعاً بین الاحادیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیثِ مذکور کا یہ مطلب مراد لینا متعین ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے وقت رفع یدین کرتے تھے نہ کہ تکبیراتِ عیدین میں،اور امام بیہقی نے جو اس جملہ کو عام سمجھ کر باب ’’رفع الیدین في تکبیرات العیدین‘‘ میں ذکر کیا ہے،سو اس میں کلام اور نظر ہے۔ دوسری حدیث: دوسری مرفوع حدیث صاحبِ ہدایہ نے پیش کی ہے۔آپ لکھتے ہیں: ’’ویرفع یدیہ في تکبیرات العید،لقولہ علیہ السلام:(( لا ترفع الأیدي إلا في سبع مواطن۔۔۔)) وذکر من جملتھا:تکبیرات الأعیاد‘‘[4] یعنی تکبیراتِ عیدین (میں)رفع یدین کرنا چاہیے،کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رفع الیدین نہ کیا [1] سنن البیھقي (۲/ ۸۳) [2] مسند أحمد (۲/ ۱۳۳) [3] الجوھر النقي لابن الترکماني الحنفي (۳/ ۲۹۳) [4] الھدایۃ (ص:۴۷)