کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 237
حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’استدل بہ (أي بحدیث أبي سعید الخدري:کان النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یخرج یوم الفطر والأضحٰی إلی المصلیٰ) علی استحباب الخروج إلی الصحراء لصلاۃ العید،وأن ذلک أفضل من صلاتھا في المسجد لمواظبۃ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم علی ذلک مع فضل مسجدہ،وقال الشافعي في الأم:بلغنا أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کان یخرج في العیدین إلی المصلیٰ بالمدینۃ،وکذا من بعدہ إلا من عذر مطر ونحوہ‘‘[1] انتھیٰ بقدر الحاجۃ۔ [ابو سعید خدری کی حدیث (کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی باہر جا کر پڑھا کرتے تھے) سے عیدین کی نماز کے لیے صحرا کی طرف نکلنے کے مستحب ہونے پر استدلال کیا گیا ہے اور یہ مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے،کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر ہمیشگی کی ہے،باوجود مسجد نبوی کی فضیلت کے۔امام شافعی نے کتاب الام میں کہا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے لوگ صحرا میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے،ہاں اگر بارش کا عذر ہوتا تو مسجد میں پڑھتے] پس جو لوگ عیدین کی نماز بلا عذر مسجد میں پڑھتے ہیں،وہ خلافِ سنت کرتے ہیں اور صحرا میں جانے والوں پر لعن طعن کرنا یا ان پر تفریقِ جماعت کا الزام دینا محض بے جا اور ناروا کام ہے۔واﷲ تعالی أعلم بالصواب کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنا ثابت نہیں: اخبار ’’اہلِ حدیث‘‘ مشمولہ ۲۷/ رمضان،۴/ شوال ۱۳۶۱ھ میں ایک صاحب کا سوال شائع ہوا ہے: ’’تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنے کے متعلق جو حدیثیں بیہقی وغیرہ میں وارد ہیں،وہ آپ کے نزدیک قابلِ احتجاج ہیں یا نہیں ؟‘‘ اس سوال کا جواب حضرت مفتی صاحب مدظلہ نے بہت مجمل اور غیر تشفی بخش دیا ہے،لہٰذا بغرض توضیح عرض ہے کہ تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنے کی جو مرفوع حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں،وہ سب ضعیف اور ناقابلِ احتجاج ہیں،لیکن اگر ان کی صحت و ضعف سے قطع نظر کر کے بغور دیکھا جائے تو ان سے تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کرنا ثابت ہی نہیں ہوتا،کیونکہ ان میں تکبیرات کے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر ہی نہیں ہے،مثلاً:امام بیہقی نے سنن کبریٰ میں ’’باب رفع الیدین في تکبیرات العیدین‘‘ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک حدیث ذکر کی ہے،جس کے آخر میں یہ [1] فتح الباري (۲/ ۴۵۰) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۵۲)