کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 232
مذکور کی تنقید فرمائی جائے۔بینوا توجروا! جواب:علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ نے جو اثرِ علی رضی اللہ عنہ کی سند کو مذکور صحیح کہا ہے،سو ان کا یہ کہنا صحیح ہے۔[1] قاضی شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ (۳/۱۱۰) میں لکھا ہے کہ ابن حزم نے اثرِ علی رضی اللہ عنہ کی تصحیح کی ہے اور حافظ ابن حجر درایہ تخریج ہدایہ (ص:۱۳۱) میں لکھتے ہیں: ’’حدیث:لا جمعۃ ولا تشریق ولا فطر ولا أضحیٰ إلا في مصر جامع،لم أجدہ،وروی عبد الرزاق عن علي موقوفاً:لا تشریق ولا جمعۃ إلا في مصر جامع،وإسنادہ صحیح،ورواہ ابن أبي شیبۃ مثلہ،وزاد:ولا فطر ولا أضحیٰ،وزاد في آخرہ:ومدینۃ عظیمۃ،وإسنادہ ضعیف‘‘ [حدیث (( لا جمعۃ ولا تشریق )) میں نے کہیں نہیں دیکھی۔عبدالرزاق نے اس کو حضرت علی سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ابن ابی شیبہ میں مدینہ عظیمہ (کسی بڑے شہر میں)کے الفاظ زائد ہیں ] نیز فتح الباری (۲/ ۳۸۰ مطبوعہ مصر) میں لکھتے ہیں: ’’ومن ذلک حدیث علي:لا جمعۃ ولا تشریق إلا في مصر جامع،أخرجہ أبو عبید بإسناد صحیح إلیہ موقوفا‘‘ [اسی سے حضرت علی کی موقوف حدیث ہے:(( لا جمعۃ ولا تشریق )) جس کو ابو عبید نے صحیح سند سے موقوفاً روایت کیا ہے] مگر واضح رہے کہ حضرت علی کے اس اثر کے صحیح ہونے سے قری اور بستیوں میں نماز جمعہ پڑھنے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی: اولاً:اس وجہ سے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ایک ایسا قول ہے،جس میں قیاس و اجتہاد کو دخل ہے اور صحابی کا ایسا قول بالاتفاق حجت نہیں ہے۔علامہ شوکانی ’’نیل الأوطار‘‘ (۳/۱۱۰) میں لکھتے ہیں: ’’وللاجتھاد فیہ مسرح فلا ینتھض للاحتجاج بہ‘‘ انتھی [1] قولہ:صحیح ہے۔اقول:اس لیے کہ سند مذکور میں منصور بن المعتمر ہے اور طلحہ بن مصرف ہے اور ابو عبدالرحمن مغلمی ہے،جس کا نام عبداﷲ بن حبیب ہے۔یہ سب راوی ثقہ اور رجال صحیحین وغیرہ میں سے ہیں،البتہ جریر بن عبدالحمید مذکور کو اخیر عمر میں وہم ہوگیا تھا اور علاوہ طلحہ بن مصرف کے ہر ایک راوی کو اپنے استاذ سے تلمذ اور سماع ثابت ہے۔طلحہ بن مصرف کی اگرچہ سعد بن عبیدہ سے سماع کی تصریح نہیں،مگر سماع ممکن ہے،کیوں کہ یہ دونوں تابعی کوفی ہم عصر ہیں اور پھر طلحہ باوجود ثقہ اور غیر مدلس ہونے کے روایت بھی کرتا ہے تو سماع ضروری ہوا۔مزید برآں عبدالرزاق کی صحیح روایت میں زبید یامی نے طلحہ کی متابعت بھی کی ہے۔لہٰذا سند مذکور کو بقول امام مسلم صحیح کہنا صحیح ہے۔واللّٰه أعلم،ہذا ملتقط من تھذیب التہذیب و نصب الرایۃ۔(ابو سعید محمد شرف الدین)