کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 231
پس مرد متبع سنت وہ ہے جو اس بدعت و محدث فی الدین کی بیخ کنی کرے اور لوگوں کو اس ظہر احتیاطی کے پڑھنے سے روکے۔[1] انتہیٰ ما في التحقیقات العلیٰ مختصراً،واللّٰه أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] دیہات میں نمازِ جمعہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر: سوال:از حقیر فقیر ابوتراب محمد عبدالرحمن گیلانی،السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ بخدمت شریف شیخ العرب والعجم،محی السنۃ وقامع البدعۃ،شمس العلما جناب حضرت مولانا مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب دام فیضہم! واضح رائے عالی باد! میں نے ایک رسالہ مسمی ’’بإزالۃ الشبھۃ عن فرضیۃ الجمعۃ‘‘ مع ترجمہ مطبوعہ احمدی لاہور،کو اول سے آخر تک دیکھا،اس رسالے کے صفحہ (۲۴) میں یہ عبارت لکھی ہوئی ہے: ’’وقال ابن أبي شیبۃ:حدثنا جریر عن منصور عن طلحۃ عن سعد بن عبیدۃ عن أبي عبد الرحمن أنہ قال قال علي رضی اللّٰه عنہ:لاجمعۃ ولا تشریق إلا في مصر جامع،ذکرہ العیني في عمدۃ القاري،وسندہ صحیح‘‘[3] [حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جمعہ اور تشریق بڑے شہر ہی میں ہے] اب التماس یہ ہے کہ اس ناچیز کے پاس اسماء الرجال میں تین ہی کتابیں ہیں:میزان الاعتدال،تقریب التہذیب،خلاصۃ تذہیب تہذیب الکمال۔راقم خاکسار کے مسکن کی جگہ بہت چھوٹی سی بستی ہے،بھائی احناف اس رسالے کو دیکھ کر مجھ پر بڑا اعتراض کر کے کہتے ہیں کہ تم ایسی بستی میں کیوں جمعہ پڑھتے ہو۔کتبِ مذکورہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جریر جو اس میں راوی ہے،منصور سے اگرچہ رواۃ صحاح سے ہے،لیکن متکلم فیہ ہے اور منصور ان کا استاذ ہے،لیکن ان کے ہم نام بہت سے راوی ہیں،کوئی ثقہ ہے اور کوئی ضعیف،اور یہ معلوم نہیں کہ طلحہ سے کون منصور روایت کرتا ہے اور طلحہ کے بھی ہم نام بہت سے ہیں،کوئی ثقہ کوئی ضعیف،اور معلوم نہیں کہ کون طلحہ سعد بن عبیدہ سے روایت کرتا ہے اور سعد بن عبیدہ ثقہ ہیں،لیکن ابو عبدالرحمان سے روایت کرتے ہیں اور ابو عبدالرحمان کے ہم نام بھی بہت ہیں،کوئی مجہول اور کوئی غیر مجہول،لیکن جو ابو عبدالرحمان حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،ان کا پتا ان کتابوں سے نہیں لگتا ہے،الحاصل جریر کو منصور سے تلمذ ضرور ہے،لیکن منصور کو طلحہ سے اور طلحہ کو سعد بن عبیدہ سے اور سعد بن عبیدہ کو ابو عبدالرحمن سے اور ابو عبدالرحمان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہرگز تلمذ نہیں معلوم ہوتا ہے۔اب التماس یہ ہے کہ عینی حنفی نے سند مذکور کو جو صحیح کہا ہے،آیا یہ کہنا ان کا صحیح ہے یا نہ؟ کتبِ مذکورہ و دیگر کتبِ رجال سے سند [1] التحقیقات العلیٰ بإثبات فرضیۃ الجمعۃ في القریٰ ضمن مجموعۃ مقالات علامہ شمس الحق العظیم آبادي (ص:۴۶۵) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۵۷۷) [3] مصنف ابن أبي شیبۃ (۲/ ۲۰۱)