کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 224
اور آپ کا خطبہ بھی مختصر ہوتا تھا،یعنی نہ بہت مختصر نہ بہت طویل۔ پس حضرت جابر بن سمرہ کی اس حدیث کے اطلاق سے خطبہ جمعہ کا بھی متوسط ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو کچھ احادیثِ صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے،وہ یہی ہے کہ زوالِ آفتاب کے بعد امام کو خطبہ شروع کرنا چاہیے اور مختصر یا متوسط خطبہ پڑھ کر نمازِ جمعہ پڑھنی چاہیے۔ خطبہ جمعہ میں عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں وعظ و نصیحت کرنا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین۔أبقاہم اللّٰه إلی یوم الدین۔اس مسئلے میں کہ خطبہ جمعہ کے درمیان واسطے پند و نصائح سامعین کے جو عربی زبان نہیں جانتے،کچھ اشعار یا نثر بزبان سامعین کہ جن کا مضمون ما جاء بہ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم سے ہے،پڑھنا درست ہے یا نہیں اور شعروں کے بارے میں کیا حکم ہے شرع کا؟ بینوا توجروا! جواب:درست ہے،کیونکہ پند و نصیحت خطبہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔صحیح مسلم کی روایت سے مشکاۃ کے ’’باب الخطبۃ‘‘ میں جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’قال:کانت للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم خطبتان،یجلس بینھما،یقرأ القرآن،ویذکر الناس‘‘[1] یعنی انھوں نے بیان کیا ہے کہ پڑھا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے اور بیٹھتے درمیان دونوں کے اور خطبہ میں قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ کرتے۔ وعظ کا فائدہ جبھی ہوتا ہے کہ سننے والے کی بولی میں ہو،اسی واسطے اﷲ تعالیٰ نے سورت ابراہیم میں فرمایا: {وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ} [إبراھیم:۴] یعنی نہیں بھیجا ہم نے کسی نبی کو مگر اس کی قوم کی بولی میں تاکہ وہ ان کو اچھی طرح سمجھا سکے۔ اس آیت سے بخوبی ثابت ہوا کہ نصیحت سامعین کی بولی میں ہو کہ وہ سمجھیں اور یہ اعتراض کہ خطبہ میں نصیحت بزبان اردو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں،بے جا ہے،کیونکہ اس بارے میں کسی زبان کی خصوصیت نہیں۔صرف یہ ثبوت چاہیے کہ خطبہ میں آپ نصیحت کرتے تھے یا نہیں،سو اس کا ثبوت حدیث صحیح میں موجود ہے اور یہ خطبہ ہی پر حصر کیوں رکھا،قرآن و حدیث کا ترجمہ اور وعظ کرنا بھی تو بزبان اردو وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ سے ثابت نہیں ہے،پھر وہ کیوں منع نہیں ؟ غرضکہ وعظ بزبان سامعین دین میں کوئی نئی بات نہیں ہے،بلکہ قرآن و حدیث دنیا میں اسی واسطے آئے ہیں کہ سب جہان کے لوگ سمجھیں۔شعر کے بارے میں یہ ہے: ’’ذکر عند رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم الشعر فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:ھو کلام فحسنہ حسن،وقبیحہ قبیح‘‘[2] (رواہ الدارقطني وحسنہ العزیزي) [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۶۲) [2] سنن الدارقطني (۴/ ۱۵۵) السلسلۃ الصحیحۃ،رقم الحدیث (۴۴۷)