کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 220
کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] نمازِ تراویح میں اُجرت کے ساتھ قرآن پڑھنا: سوال:سننا قرآن کا اور پڑھنا اجرت کے ساتھ نماز تراویح میں جائز ہے یا نہیں ؟ ایسی تراویح کا ثواب ہوگا یا نہیں ؟ جواب:سننا قرآن کا اور پڑھنا اجرت کے ساتھ نمازِ تراویح میں جائز ہے اور ثواب ہو گا۔عند الأئمۃ الثلاثۃ وعامۃ أہل حدیث خلافاً للحنفیۃ،کما في الکتب الدینیۃ،واللّٰه أعلم بالصواب۔ سید محمد نذیر حسین سید محمد عبدالسلام،غفرلہ سید محمد ابو الحسن هو الموافق بعض ائمہ سلف سے ثابت ہے کہ وہ اجرت کے ساتھ تراویح کا پڑھنا اور سننا جائز نہیں رکھتے تھے۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس امام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جو لوگوں سے کہے کہ اتنے روپے پر تم لوگوں کو رمضان میں تراویح پڑھاؤں گا؟ تو امام صاحب نے فرمایا:اﷲ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ایسے امام کے پیچھے کون نماز پڑھے گا جو اُجرت کے عوض قراء ت کرے۔عبداﷲ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں مکروہ سمجھتا ہوں کہ اجرت کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور فرمایا:ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں پر نماز کا اعادہ واجب ہو۔مصعب نے عبداﷲ بن معقل کو حکم کیا کہ رمضان میں جامع مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھائیں،پس جبکہ افطار کیا تو مصعب نے پانچ سو درہم اور ایک حلہ عبداﷲ بن معقل کے پاس بھیجا تو انھوں نے واپس کر دیا اور کہا کہ میں قرآن پر اجرت نہیں لیتا۔کذا في قیام اللیل لمحمد بن نصر المروزي۔[2] میرے نزدیک انھیں بعض ائمہ سلف کا قول قابلِ قبول ہے۔ واللّٰه تعالیٰ أعلم۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] قنوتِ وتر کے الفاظ: سوال:کیا قنوتِ وتر کے الفاظ میں جمع کی ضمائر استعمال کرنا درست ہے؟ جواب:احادیث میں (( اللّٰهم اھدني فیمن ھدیت وعافني فیمن عافیت )) [4] بضمیر مفرد ہی وارد ہوا ہے۔کوئی ایسی حدیث میری نظر سے نہیں گزری،جس میں ’’اللّٰهم اھدنا‘‘ بضمیر جمع وارد ہوا ہو۔[5] پس نمازِ فجر کے قنوت [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۳۴) [2] مختصر قیام اللیل (ص:۲۴۶) [3] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۴۲) [4] التلخیص الحبیر (۱/ ۲۵۰) [5] قد خفي عن نظر الشیخ رحمہ اللّٰه الحدیث الذي رواہ البیھقي في سننہ عن عبد اللّٰه بن عباس قال:کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یعلمنا دعاء ندعو بہ في القنوت من صلاۃ الصبح:اللّٰهم اھدنا فیمن ھدیت،وعافنا فیمن عافیت،وتولنا فیمن تولیت،وبارک لنا فیما أعطیت،وقنا شر ما قضیت۔۔۔(السنن الکبریٰ:۲/ ۲۰۱) [عبدالسمیع مبارک پوری]