کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 217
رمضان عشرین رکعۃ والوتر،قلت:ھذا الحدیث رواہ أیضا أبو القاسم البغوي في معجم الصحابۃ قال:حدثنا منصور بن مزاحم حدثنا أبو شیبۃ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس الحدیث،وأبو شیبۃ ھو إبراھیم بن عثمان العبسي الکوفي قاضي واسط،جد أبي بکر بن أبي شیبۃ،کذبہ شعبۃ،وضعفہ أحمد و ابن معین والبخاري والنسائي وغیرھم،و أورد لہ ابن عدي ھذا الحدیث في الکامل في مناکیرہ‘‘ انتھیٰ یعنی اگر تم سوال کرو کہ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ اس حدیث کو ابو القاسم بغوی نے بھی معجم صحابہ میں روایت کیا ہے اور ابو شیبہ جو اس حدیث کا ایک راوی ہے،اس کا نام ابراہیم بن عثمان ہے اور ابوبکر بن ابی شیبہ کا دادا ہے،شعبہ نے اس کو جھوٹا کہا ہے اور امام احمد اور بخاری اور نسائی وغیرہم نے اس کو ضعیف کہا ہے اور ابن عدی نے کامل میں اس حدیث کو ابو شیبہ کی منکر حدیثوں میں درج کیا ہے۔ نیز علامہ زیلعی حنفی تخریج ہدایہ (۱/ ۲۹۳) میں لکھتے ہیں: ’’رویٰ ابن أبي شیبۃ في مصنفہ،والطبراني،وعنہ البیھقي من حدیث إبراھیم بن عثمان بن أبي شیبۃ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم کان یصلي في رمضان عشرین رکعۃ سوی الوتر۔۔۔إلی قولہ:وھو معلول بأبي شیبۃ إبراھیم بن عثمان جد الإمام أبي بکر بن أبي شیبۃ،وھو متفق علیٰ ضعفہ،ولینہ ابن عدي في الکامل،ثم إنہ مخالف للحدیث الصحیح‘‘ انتھیٰ یعنی ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور طبرانی اور بیہقی نے ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ کی حدیث سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعت پڑھتے تھے،سوائے وتر کے اور یہ حدیث معلول ہے،یعنی ضعیف ہے،اس وجہ سے کہ اس کا ایک راوی ابو شیبہ ابراہیم بالاتفاق ضعیف ہے اور ابن عدی نے کامل میں اس کو ضعیف کہا ہے،پھر باوجود ضعیف ہونے کے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث صحیح کے مخالف ہے۔ دیکھو علامہ ابن الہمام اور علامہ عینی اور حافظ زیلعی جیسے جلیل القدر علما حنفیہ نے بیس رکعت والی حدیث کی کس طرح پر صاف صاف تضعیف کی ہے اور علاوہ ان علمائے حنفیہ کے علمائے محدثین نے بھی تضعیف کی ہے،دیکھو تلخیص الحبیر (صفحہ:۱۱۹) اور فتح الباری (۲/ ۳۱۷) اور نیل الاوطار (۲/ ۲۹۹) حاصل یہ کہ احادیثِ صحیحہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا گیارہ ہی رکعت تراویح پڑھنا ثابت ہے اور آپ کا بیس رکعت تراویح پڑھنا کسی حدیث صحیح سے ہرگز ہرگز ثابت نہیں اور بیس رکعت والی حدیث بالکل ضعیف و غیر معتبر ہے،اس