کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 215
تراویح پڑھنے کی روایت جو بیہقی وغیرہ میں مروی ہے،[1] وہ بالکل ضعیف ہے،اس کے ضعیف ہونے کی تصریح خود حنفیہ نے بھی کی ہے اور آپ سے بیس سے زیادہ پڑھنے کی تو کوئی روایت ہی نہیں آئی ہے اور زمانہ نبوی میں کسی صحابی سے بھی بیس رکعت یا بیس سے زیادہ پڑھنا ہرگز کوئی ثابت نہیں کر سکتا،پس مجیب کا یہ پہلا دعویٰ سراسر غلط و باطل ہے۔ اور دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ ’’زمانہ حضرت عمر میں عمر رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے موافق بیس رکعت پر اجماع ہوگیا ہے۔‘‘ یہ دوسرا دعویٰ بھی بالکل غلط و سراسر باطل ہے۔زمانہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں گیارہ رکعت پر اجماع ہوناالبتہ ثابت ہے،جیسا کہ سائب بن یزید کی روایت مذکورہ بالا سے ظاہر ہے،نیز موطا کی اس روایت سے ظاہر ہے: ’’عن داود بن الحصین أنہ سمع الأعرج یقول:ما أدرکت الناس إلا وھم یلعنون الکفرۃ في رمضان،وکان القاریٔ یقرأ البقرۃ في ثمان رکعات فإذا قام بھا في اثنتي عشرۃ رکعۃ رأیٰ الناس أنہ خفف‘‘[2] یعنی داود بن حصین سے روایت ہے کہ میں نے اعرج سے سنا،وہ کہتے تھے کہ نہیں پایا میں نے لوگوں کو مگر اس حالت میں کہ وہ کافروں پر لعنت کرتے تھے رمضان میں اور قاری پڑھتا تھا سورت بقرہ آٹھ رکعتوں میں اور جب سورت بقرہ کو بارہ رکعتوں میں پڑھتا تو لوگ سمجھتے کہ آج اس نے تخفیف کی۔ اس روایت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں عام طور پر آٹھ رکعت تراویح پڑھی جاتی تھی اور کبھی کبھی بارہ رکعت پڑھ لی جاتی تھی اور مجیب نے جو بیس رکعت کے ثبوت میں اور بیس رکعت پر اجماع ہونے کے ثبوت میں یزید بن رومان کی حدیث موطا سے نقل کی ہے،سو یہ حدیث صحیح نہیں ہے،بلکہ منقطع ہے۔یزید بن رومان نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔امام زیلعی حنفی تخریجِ ہدایہ میں لکھتے ہیں:’’ویزید بن رومان لم یدرک عمر‘‘[3] انتھیٰ الحاصل مجیب مذکور کا جواب دو دعوؤں پر مشتمل ہے اور دونوں دعوے غلط و باطل ہیں،لہٰذا مجیب کا جواب مذکور غلط ہے اور ہاں مجیب کا جواب مذکور خود اجلہ فقہائے حنفیہ کے قول سے بھی باطل ہے۔علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ جو مذہب حنفی کے بہت بڑے حامی ہیں،فتح القدیر میں صاف لکھتے ہیں کہ تراویح گیارہ رکعت سنت ہے: ’’فحصل من ھذا أن قیام رمضان إحدی عشرۃ رکعۃ بالوتر في جماعۃ فعلہ علیہ السلام‘‘[4] انتھیٰ ما في فتح القدیر بقدر الحاجۃ۔ [1] سنن البیھقي (۲/ ۱۴۹۶) اس کی سند میں ’’ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کوفی‘‘ ضعیف ہے۔ [2] موطأ الإمام مالک (۲۵۳) [3] نصب الرایۃ (۲/ ۹۹) [4] فتح القدیر (۱/ ۴۶۸)