کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 214
السلام و نیل الأوطار۔ یعنی جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو رمضان میں آٹھ رکعت نماز پڑھائی،پھر وتر پڑھے۔اسے ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ یہ حدیث صحیح و قابلِ احتجاج ہے،کسی محدث نے اس کو ضعیف نہیں کہا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اُبی اور تمیم داری کو نماز تراویح پڑھانے کا حکم کیا تو گیارہ ہی رکعت پڑھانے کا حکم کیا،نہ زیادہ نہ کم۔ موطا امام مالک میں ہے: ’’عن السائب بن یزید أنہ قال:أمر عمر بن الخطاب أبي بن کعب و تمیما الداري أن یقوما للناس بإحدیٰ عشرۃ رکعۃ‘‘[1] یعنی سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم کیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعت تراویح پڑھایا کریں۔سند اس کی بہت صحیح ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ اور سنن سعید بن منصور میں بھی یہی روایت موجود ہے۔جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آٹھ رکعت تراویح پڑھانے کا حکم کیا تو ظاہر ہے کہ خود بھی گیارہ ہی رکعت پڑھتے رہے ہوں گے اور خلفائے راشدین میں سے حضرت ابوبکر و حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہم کا حال صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ یہ لوگ کتنی رکعت پڑھتے تھے،مگر جب حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ ہی رکعت تراویح پڑھتے تھے اور جن راتوں میں آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ باجماعت تراویح پڑھی،ان راتوں میں بھی گیارہ ہی رکعت پڑھنا ثابت ہے تو ظاہر یہی ہے کہ یہ لوگ بھی گیارہ ہی رکعت تراویح پڑھتے رہے ہوں گے۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح گیارہ رکعت ثابت ہے اور خلفائے راشدین میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی گیارہ ہی رکعت ثابت ہے اور بقیہ خلفائے راشدین سے تراویح کی تعداد ثابت نہیں،مگر ظاہر یہی ہے کہ یہ لوگ بھی گیارہ رکعت پڑھتے رہے ہوں گے۔واﷲ أعلم مجیب مذکور کے جواب مذکور کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دو دعوے کیے ہیں اور دونوں دعوے باطل ہیں۔پہلا دعویٰ یہ کیا ہے کہ ’’زمانہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں ثبوت تراویح کا مختلف طور سے ہے۔بعض روایات سے آٹھ ثابت ہوتی ہیں،بعض سے بیس اور بعض سے بیس سے زیادہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔‘‘ اس دعویٰ کا بطلان بالکل ظاہر ہے،اس واسطے کہ زمانہ نبوی میں ثبوت تراویح کا ہرگز مختلف طور سے نہیں ہے،نہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور نہ کسی صحابی سے۔اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف گیارہ رکعت تراویح پڑھتے تھے اور آپ سے بیس رکعت [1] موطأ الإمام مالک (۲۵۱)