کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 213
(( عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیَّیْنَ )) [1] [تم میری سنت اور خلفاے راشدین مہدیین کی سنت پر عمل کرنا] جو شخص بیس رکعت سے انکار کرے،وہ شخص حدیث (( علیک بسنتي۔۔۔الخ )) کا منکر ہو گا اور جس حدیث سے بیس رکعت ثابت ہیں،وہ یہ ہے: ’’في الموطأ عن یزید بن رومان قال:کان الناس یقومون في زمن عمر بن الخطاب بثلاث وعشرین رکعۃ‘‘[2] [یزید بن رومان نے کہا:حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں لوگ تئیس رکعت پڑھا کرتے تھے] جو شخص اجماع سے انکار کرے،اس کی تنبیہ کے واسطے یہ حدیث کافی ہے:(( مَنْ شَذَّ شُذَّ فِيْ النَّارِ )) [3] [جو الگ ہوا وہ جہنم میں گیا] یعنی جو مسلمانوں کے گروہوں سے جدا ہوا،وہ دوزخ میں تنہا ہو گا۔ العبد المجیب:محمد وصیت (مدرس مدرسہ حسین بخش) ہو المصوب سوال مذکورہ کا یہ جواب جو مجیب نے لکھا ہے،بالکل غلط ہے۔اب پہلے سوال مذکور کا صحیح جواب لکھا جاتا ہے،پھر مجیب کے جواب کے غلط ہونے کی وجوہ لکھی جائیں گی،پس واضح ہو کہ احادیثِ صحیحہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز تراویح کی مع وتر کے گیارہ رکعتیں ثابت ہیں۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے: ’’عن أبي سلمۃ بن عبد الرحمن أنہ سأل عائشۃ رضي اللّٰه عنها کیف کانت صلاۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في رمضان؟ فقالت:ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدیٰ عشرۃ رکعۃ‘‘[4] الحدیث یعنی ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رمضان میں کیونکر تھی؟ یعنی آپ تراویح کی نماز کتنی رکعت پڑھتے تھے؟ پس عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے،نہ رمضان اور نہ غیر رمضان میں،یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ تراویح کی تعداد گیارہ رکعت تھی،جیسا کہ اس مدعیٰ کو ابن حبان وغیرہ کی یہ روایت خوب صراحت کے ساتھ ثابت کیے دیتی ہے: ’’عن جابر رضی اللّٰه عنہ قال:صلی بنا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في رمضان ثمان رکعات،ثم أوتر‘‘[5] الحدیث۔رواہ ابن خزیمۃ و ابن حبان في صحیحیھما،ھکذا في المفاتیح وسبل [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۶۰۷) [2] موطأ الإمام مالک (۲۵۲) اس کی سند میں انقطاع ہے،جس کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔ [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۱۶۷) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۹۰۹) [5] صحیح ابن خزیمۃ (۲/ ۱۳۸) صحیح ابن حبان (۶/ ۱۶۹) مسند أبي یعلیٰ (۳/ ۳۳۶)