کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 211
ولقد شاھدنا من الموسوسین من یغسل یدہ فوق المئین،وھو مع ذلک یعتقد أن حدثہ ھو الیقین‘‘[1] انتھی [ملا علی قاری نے مرقاۃ میں کہا ہے:یعنی جنون کے ساتھ،کیوں کہ گمان ہے کہ وہ اپنے دین میں احتیاط کی بنا پر زیادتی کر رہا ہے،ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے:ہم نے وسواس کا شکار ایسا شخص دیکھا ہے جو سو سے زیادہ مرتبہ اپنا ہاتھ دھوتا ہے اور اس کے باوجود وہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اس کا حدث ہی یقینی ہے] امام کا سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرنا: سوال:کیا سلام پھیرنے کے بعد امام کو نمازیوں کی طرف منہ کرنا چاہیے؟ جواب:رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو قبلے کی طرف پیٹھ اور مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں ہے: ’’عن سمرۃ بن جندب قال:کان النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم إذا صلیٰ صلاۃ أقبل علینا بوجھہ‘‘[2] یعنی سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کر کے بیٹھتے۔ قاضی شوکانی نیل الاوطار (۲/ ۲۰۷) میں لکھتے ہیں: ’’وھو یدل علیٰ مشروعیۃ استقبال الإمام للمؤتمین بعد الفراغ من الصلاۃ و المواظبۃ علی ذلک ‘‘ [یہ حدیث امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرنے کی مشروعیت پر اور اس پر ہمیشگی کرنے پر دلالت کرتی ہے] نیز حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’وسیاق سمرۃ ظاھرہ أنہ کان یواظب علی ذلک‘‘[3] [سمرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت کا سیاق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مستقل طور پر یہ عمل کرتے تھے] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دائیں جانب کے مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا بھی ثابت ہے۔صحیح مسلم میں ہے: ’’عن البراء بن عازب قال:کنا إذا صلینا خلف رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أحببنا أن نکون عن [1] مرقاۃ المفاتیح (۲/ ۴۱۶) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۸۰۹) [3] فتح الباري (۲/ ۳۳۴)