کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 210
[حسن بصری،امام شافعی اور اسحاق بچے کی امامت کے قائل ہیں اور امام مالک و سفیان ثوری مکروہ سمجھتے ہیں اور امام ابو حنیفہ اور امام احمد سے دو روایتیں ہیں۔مشہور یہ ہے کہ نفلوں میں جائز ہے اور فرائض میں نہیں ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کیا اعضاے وضو کو تین بار سے زائد مرتبہ دھونے والا شخص امام بن سکتا ہے؟ سوال:کیا اعضاے وضو کو تین بار سے زائد مرتبہ دھونے والا شخص امام بن سکتا ہے؟ جواب:جو امام مسجد اعضائے وضو کو تین تین بار سے زائد چار،چھے،آٹھ،دس مرتبہ دھوئے،اگر اس کا ایسا کرنا اس وجہ سے ہے کہ وہ شکی اور وسواسی ہے اور محض اپنے اطمینانِ قلب کے لیے ایسا کرتا ہے تو اس کا وضو درست ہوجائے گا اور اس کی اور اس کے مقتدیوں کی نماز صحیح ہوگی،لیکن ایسے امام کو ہدایت کرنی چاہیے کہ وہ اعضائے وضو کو تین تین بار کامل طور پر دھو کر بس کر دے اور تین بار سے زائد ہرگز نہ دھوئے۔اگر اس ہدایت پر عمل کرے تو خیر ورنہ ایسے امام کو معزول کر کے کسی دوسرے شخص کو امام بنانا چاہیے،جو شکی اور وسواسی نہ ہو،کئجب اگر اس امام کا ایسا کرنا اس وجہ سے ہے کہ وہ اعضائے وضو کو تین تین بار سے زائد دھونے کو جائز و درست سمجھتا ہے تو ایسا شخص بلاشبہہ مخالفِ سنت ظالم اور عاصی ہے،ایسے شخص کو ہرگز امام نہیں بنانا چاہیے۔ عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال:جاء أعرابي إلی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یسألہ عن الوضوء فأراہ ثلاثا ثلاثا ثم قال:(( ھکذا الوضوء،فمن زاد علیٰ ھذا فقد أساء و تعدیٰ وظلم )) [2] [عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا:ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں دریافت فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار (اعضا دھو کر) وضو کر کے دکھایا،پھر فرمایا:’’وضو یہ ہوتا ہے،جس نے اس پر اضافہ کیا،اس نے برا کیا،حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔‘‘] جامع ترمذی میں ہے: وقال أحمد وإسحاق:لا یزید علیٰ الثلاث إلا رجل مبتلی‘‘[3] [امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ نے فرمایا:تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو (دیوانگی اور وسوسے میں)مبتلا ہو گا] قال القاري في المرقاۃ:أي بالجنون،لمظنۃ أنہ بالزیادۃ یحتاط لدینہ۔قال ابن حجر: [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۴۰۸) [2] سنن النسائي،رقم الحدیث (۱۴۰) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث ۴۲۲) [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۴۴)