کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 208
وعظ کے سننے اور سنانے کا فائدہ یہی ہے کہ ہدایت ہو،لوگ شرک و بدعت اور معاصی سے بچیں،توحید اور اتباعِ سنت کو لازم پکڑیں اور ظاہر ہے کہ بدعتی مولویوں کے وعظ سے بجائے ہدایت کے گمراہی پھیلتی ہے،ان کے بدعتی وعظ سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں،بدعت میں مبتلا ہوتے ہیں،سنت کو چھوڑتے ہیں اور طرح طرح کی خرابیاں ہوتی ہیں۔رہا یہ خیال کہ بدعتی مولویوں کے وعظ کے اندر جو باتیں خلاف قرآن و حدیث ہوں،ان کو سامعین خیال میں نہ لائیں اور باقی باتوں کو خیال میں لائیں،صحیح نہیں،کیونکہ ہر شخص کو اس کی تمیز نہیں کہ کون سی بات قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور کونسی موافق اور جس کو اس کی تمیز ہو،اسے خلاف اور ناحق اور منکر باتوں کو سن کر انکار کرنا چاہیے،ہاتھ سے یا زبان سے یا دل سے۔ہاتھ اور زبان سے انکار کی یہی صورت ہے کہ اس بدعتی واعظ کو وعظ سے روکے اور دل سے انکار کی صورت یہ ہے کہ اس کی مجلسِ وعظ میں شریک نہ ہو،الحاصل بدعتی مولویوں کا بدعتی وعظ سننا نہیں چاہیے۔واﷲ أعلم بالصواب۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت مذکور جو دارقطنی سے منقول ہوئی ہے،ضعیف ہے،مگر اس کی تائید حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے: ’’عن أنس بن مالک قال:کان رجل من الأنصار یؤمھم في مسجد قباء۔۔۔الحدیث،وفیہ:وکانوا یرونہ أفضلھم،وکرھوا أن یؤمھم غیرہ۔۔۔الخ،أخرجہ الترمذي:وقال:ھذا حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ من حدیث عبید اللّٰه بن عمر عن ثابت البناني‘‘[1] (جامع الترمذي،صفحہ:۴۱۲) [انس بن مالک کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی مسجد قبا میں ان کی امامت کراتا تھا اور اس کو لوگ اپنے سے افضل سمجھتے تھے اور اس کے بغیر کسی اور کے پیچھے نماز پڑنا مکروہ جانتے تھے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] کیا نمازِ تراویح میں نابالغ لڑکے کی امامت جائز ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ نمازِ تراویح میں امامت لڑکے نابالغ کی اور اس کے پیچھے تراویح جائز و درست ہے یا نہیں ؟ جواب:نزدیک علما و مشائخ شہر بلخ اور مصر و شام کے جائز و معمول بہ ہے اور علمائے ما وراء النہر کے نزدیک ناجائز ہے اور مضمرات میں فتویٰ جواز ہی پر دیا ہے،یعنی روا اور درست ہے۔ [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۶۹۰۱) [2] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳۹۰)