کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 207
سامعین بدعتی ہوں گے (مرشد) تعجب ہے کہ مومنین کے اندر تفرقہ ڈالنا اور ثواب سے ایسی خیر و برکت کی چیزوں سے محروم رکھنا ہمارے نزدیک مقولہ سے خصم کی نفسانیت صادر ہوتی ہے یا نہیں،اس وجہ سے کہ بغیر خوض و فکر کے کسی کو بدعتی بنا دینا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس وقت کہ دستار فضیلت کا فرق مبارک پر رکھا گیا ہوگا،من جانب اﷲ کلید سقر کی ان کے ید مبارک میں دے دی گئی ہوگی،پس اختیار ہے،جسے چاہنا دوزخ کے دخول کا حکم دے دینا۔بھلا غور تو کیجیے کہ لفظ بدعت کا کسی کی شان میں نکالنا،گویا اس کے دوزخی ہونے کا ثبوت کرنا ہے،خلاصہ کلام یہ ہے کہ بدعتی عالم امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے یا نہیں اور وعظ و پند میں شریک ہوں گے یا نہیں ؟ جواب:واضح ہو کہ بموجب حدیث شریف کے بدعتی کو قصداً امام بنانا نہیں چاہیے،بلکہ اپنے میں سے جو اچھا شخص ہو،اس کو امام بنانا چاہیے: ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( اِجْعَلُوْا أَئِمَّتَکُمْ خِیَارَکُمْ فَإِنَّھُمْ وَفْدُکُمْ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ )) [1] رواہ الدارقطني‘‘ ھٰکذا في المنتقیٰ۔ [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے میں سے بہترین آدمی کو اپنا امام مقرر کیا کرو،کیوں کہ وہ تمھارے اور تمھارے رب کے درمیان ترجمان ہے] بوقتِ ضرورت اگر بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ لے تو جائز ہے،مثلاً:وہ حاکم یا رئیس ہے کہ اگر اس کا خلاف کرتے ہیں تو فتنہ اور فساد زیادہ ہوجاتا ہے،جیسا کہ صحیح بخاری کے ’’باب إمامۃ المفتون والمبتدع‘‘ میں مذکور ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا:’’إنک إمام عامۃ،ونزل بک ما تری،ویصلي لنا إمام فتنۃ،ونتحرج‘‘ یعنی آپ امامِ عامہ ہیں اور آپ پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے،اسے آ پ دیکھ رہے ہیں اور ہم کو امام فتنہ نماز پڑھاتا ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے کو ہم گناہ سمجھتے ہیں،اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’الصلاۃ أحسن ما یعمل الناس فإذا أحسن الناس فأحسن معھم‘‘[2] یعنی لوگوں کے سب عملوں سے اچھا عمل نماز ہے۔جب لوگ نماز پڑھیں تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو،یہ اس لیے فرمایا،تاکہ فتنہ زیادہ نہ ہو،پس جب ایسا موقع ہو تو بدعتی کے پیچھے اگر نماز پڑھ لیں تو درست ہے اور ایسی ہی حالت پر یہ حدیث محمول ہے:(( الصلاۃ المکتوبۃ واجبۃ خلف کل مسلم برا کان أو فاجرا )) [3] یعنی ضرورت کے وقت فاجر کے پیچھے نماز واجب ہوجاتی ہے۔ [1] سنن الدارقطني (۲/ ۸۷) سنن البیھقي (۳/ ۹۰) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۱۸۲۲) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۶۳) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۹۴) اس کی سند میں انقطاع ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں:إرواء الغلیل (۲/ ۳۰۴)