کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 206
جواب:مقتدیوں میں سے وہ مقتدی امامت کا مستحق ہے جو حافظِ قرآن ہو اور قرآن صحیح اور صاف پڑھتا ہو۔ عن أبي مسعود عقبۃ بن عمرو قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَأُھُمُ لِکِتَابِ اللّٰه )) [1] [ابو مسعود عقبہ بن عمرو سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سے کتاب اﷲ کو زیادہ پڑھنے والا ہو۔‘‘] قال القاضي الشوکاني في النیل:’’قد اختلف في المراد من قولہ:(( یؤم القوم أقرأھم )) فقیل:المراد أحسنھم قراء ۃ،وإن کان أقلھم،وقیل أکثرھم حفظا للقرآن،ویدل علی ذلک ما رواہ الطبراني في الکبیر،ورجالہ رجال الصحیح،عن عمرو بن سلمۃ أنہ قال:انطلقت مع أبي إلیٰ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بإسلام قومہ فکان فیما أوصانا:لیؤمکم أکثرکم قرآنا،فکنت أکثرھم قرآنا فقدموني،وأخرجہ أیضا البخاري و أبو داود والنسائي‘‘[2] [قاضی شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الاوطار میں کہا ہے:فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم:’’لوگوں کی امامت قرآن کو زیادہ پڑھنے والا کرائے‘‘ کے معنی و مراد میں اختلاف ہے۔کہا گیا ہے کہ جو ان میں سب سے زیادہ خوب صورت پڑھنے والا ہو،اگرچہ وہ ان میں سے کم پڑھنے والا ہو،یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس کو ان میں سے قرآن زیادہ حفظ ہو،چنانچہ اس موقف کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں کہ عمرو بن سلمہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،تاکہ اپنی قوم کی طرف سے اسلام کی بیعت کی جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہم کو نصیحتیں فرمائیں،ان میں سے ایک یہ تھی کہ تمھاری امامت وہ کرائے جس کو قرآن مجید زیادہ یاد ہو تو مجھے قرآن زیادہ یاد تھا۔لہٰذا انھوں نے مجھے امام بنا کر آگے کھڑا کر دیا،اسے بخاری،ابوداود اور نسائی نے بھی روایت کیا ہے] بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ بدعتی عالم امام کے پیچھے اقتدا کرنا خصوصاً صلواتِ خمسہ میں کوئی حرج ہے یا نہیں ؟ علی ہذا القیاس وعظ و پند اگر بدعتی عالم کا استماع میں لائیں تو کیا مضائقہ کی بات ہے؟ ممکن ہے کہ سامعین جو باتیں کہ وعظ کے اندر خلاف کتاب اﷲ وسنت رسول کے ہوں خیال میں نہ لائیں،بقیہ باتیں خیال میں لائیں اور خصم یہ کہتا ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز نہ پڑھیں اور وعظ و پند کو استماع میں نہ لائیں،ورنہ [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۷۳) [2] نیل الأوطار (۳/ ۱۹۲) المعجم الکبیر للطبراني (۱۷/ ۳۰) نیز دیکھیں:صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۳۰۲) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۸۶) سنن النسائي،رقم الحدیث (۷۶۷)